افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ قومی و ملّی زوال کا اخلاقی سبب

165

ہمارا طبقہ متوسط، جو ہر قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، مسلسل اخلاقی انحطاط کی بدولت بالکل بھاڑے کا ٹٹو (Mercenary) بن کر رہ گیا تھا۔ اس کا اصول یہ تھا کہ جو بھی آجائے اجرت پر اس کی خدمات حاصل کرے اور پھر جس مقصد کے لیے چاہے اس سے کام لے لے۔ ہزاروں لاکھوں آدمی ہمارے ہاں کرائے کے سپاہی بننے کے لیے تیار تھے، جنہیں ہر ایک نوکر رکھ کر جس کے خلاف چاہتا لڑوا سکتا تھا، اور ہزاروں لاکھوں ایسے لوگ بھی موجود تھے جن کے ہاتھ اور دماغ کی طاقتوں کو کم یا زیادہ اجرت پر لے کر ہر فاتح اپنا نظم ونسق چلا سکتا تھا، بلکہ اپنی سیاسی چال بازیوں تک میں استعمال کر سکتا تھا۔ ہماری اس اخلاقی کمزوری سے ہمارے ہر دشمن نے فائدہ اٹھایا ہے۔ خواہ وہ مرہٹے ہوں، سکھ ہوں، فرانسیسی ہوں یا ولندیزی۔ اور آخر کار انگریز نے آکر خود ہمارے ہی سپاہیوں کی تلوار سے ہم کو فتح کیا اور ہمارے ہی ہاتھوں اور دماغوں کی مدد سے ہم پر حکومت کی۔ ہماری اخلاقی حس اس درجہ کُند ہوچکی تھی کہ اس روش کی قباحت سمجھنا تو درکنار، ہمیں الٹا اس پر فخر تھا۔ چناچہ ہمارا شاعر اسے اپنی خاندانی مفاخر میں شمار کرتا ہے کہ
سو پشت سے ہے پیشہ ٔ آبا سپہ گری
حالانکہ کسی شخص کا پیشہ ور سپاہی ہونا حقیقت میں اس کے ا ور اس سے تعلق رکھنے والوں کے لیے باعثِ ننگ ہے نہ کہ باعثِ عزت۔ وہ آدمی ہی کیا ہوا جو نہ حق اور باطل کی تمیز رکھتا ہو نہ اپنے اور پرائے کا امتیاز۔ جو بھی اسے پیٹ کو روٹی اور تن کو کپڑا دیدے اس کے لیے شکار مارنے پر آمادہ ہوجائے اور کچھ نہ دیکھے کہ میں کس پر جھپٹ رہاہوں۔ یہ اخلاقی حالت جس لوگوں کی تھی ان میں کسی دیانت و امانت اور کسی مستقل وفاداری اور مخلصانہ وفاداری کا پایا جانا مستبعد تھا اور ہونا چاہیے تھا۔ جب وہ اپنی قوم کے دشمنوں کے ہاتھ خود اپنے آپ کو بیچ سکتے تھے، تو ان کے اندر کسی پاکیزہ اور طاقت ور ضمیر کے موجود ہونے کی آخری وجہ ہی کیا ہوسکتی ہے؟
(مسلمانوں کا ماضی حال اور مستقبل)
٭…٭…٭
انسانی تمدّن کا گلا سَڑا جسم
پوری انسانیت کا جسم اخلاقی حیثیت سے سڑ گیا ہے۔ پہلے قحبہ خانے اور قمار بازی کے اڈے اخلاقی پستی کے سب سے بڑے پھوڑے سمجھے جاتے تھے لیکن اب تو ہم جدھر دیکھتے ہیں انسانی تمدّن پورا کا پورا ہی ایک پھوڑا نظر آتا ہے۔
قوموں کی پارلیمینٹیں اور اسمبلیاں، حکومتوں کے سکرٹریٹ اور وزارت خانے، عدالتوں کے ایوان اور وکالت خانے، پریس اور نشرگاہیں، یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے، بینک اور صنعتی و تجارتی کاروبار کے ادارے سب کے سب پھوڑے ہی پھوڑے ہیں جو کسی تیز نشتر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ علم… جو انسانیت کا عزیز ترین جوہر ہے آج اْس کا ہر شعبہ انسانیت کی تباہی کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور وہ صفات بھی جو انسان کی بہترین اخلاقی صفات سمجھی جاتی تھیں، مثلًا شجاعت، ایثار، قربانی، فیاضی، صبر، تحمّل، اولوالعزمی، بلند حوصلگی وغیرہ، آج ان کو بھی چند بڑی اور بنیادی اخلاقی خرابیوں کا خادم بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔
(اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر)