حکومت فوری طور پر تنخواہوں سے محروم کھلاڑیوں کی مدد کرے،سید وسیم ہاشمی

92

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی اسپورٹس فورم کے چیف آرگنائزر سید وسیم ہاشمی نے وزیراعظم پاکستان عمران خان، بین الصوبائی رابطے کی وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور چاروں صوبائی وزراء اعلی سے اپیل کی ہے کہ کورونا وائرس کے باعث لاک ڈائون سے بیروزگارہونے والے اور تنخوائوں سے محروم کھلاڑیوں کی مددکیلئے فوری اقدامات کئے جائیں انٹرنیشنل ایونٹس میں قومی پرچم سربلند کرنے والے بیشتر کھلاڑی اس وقت مالی پریشانیوں کے باعث شدیدکسمپرسی کی زندگی گذارنے پرمجبور ہیں اور ان کے گھروں میں فاقوں تک کی نوبت آگئی ہے اس تشویشناک صورتحال کا ملک کے اسپورٹسمین وزیراعظم عمران خان فوری نوٹس لیں اور متاثرہ کھلاڑیوں کی مالی مدد اور ان کی تنخوائوں کی ادائیگی کیلئے ہنگامی بنیادوں پرایکشن لیتے ہوئے کھلاڑیوں کے متعلقہ اداروں کواحکامات صادر فرمائیں وسیم ہاشمی نے کہاکہ ہماری حتی الامکان کوشش ہے کہ کراچی اسپورٹس فورم کے پلیٹ فارم سے لاک ڈائون کی موجودہ صورتحال سے متاثرہونے والے زیادہ سے زیادہ مستحق کھلاڑیوں اور گرائونڈ اسٹاف کوان کے گھروں میں راشن بیگ،سینی ٹائزرزاور حفاظتی ماسک پہنچایا جائے تاہم حکومت وقت کواس ضمن میں فوری اقدامات کرناہوں گے واضح رہے کہ جمعرات کو میڈیا میں پاکستان کے انٹرنیشنل باکسر اور ایشین گیمزکے سلور اور سائوتھ ایشین گیمز کے گولڈ میڈلسٹ باکسر رشید قنبرانی کو2ماہ کی تنخواہ نہ ملنے کی خبر نشر ہونے کے بعد کراچی اسپورٹس فورم کے چیئرمین آصف عظیم نے رشیدقنبرانی سے فوری رابطہ کیا اور انہیں فورم کیجانب سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی گفتگوکے دوران رشیدقنبرانی کاکہنا تھا کہ وہ اس وقت پاکستان اسٹیل ملزمیں گارڈ کی نوکری پرمامورہیںاور عید سمیت گزشتہ 2ماہ سے سے تنخواہ سے محروم ہیں 2012 سے ابتک تنخواہ میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا 3سال قبل علاج کیلئے پیسے نہ ہونے کے سبب میرا17 سال کاجوان بیٹا انتقال کرگیا اور اس وقت میرے پاس غربت کے باعث اپنے بیٹے کے کفن اور تدفین تک کے پیسے بھی نہیں تھے میں نے ملک کیلئے قومی اور عالمی سطح پرکئی اعزازات جیتے 1993 کے ڈھاکا اور 1995 کے مدراس میں ہونے والے سائوتھ ایشین گیمز میں پاکستان کیلئے گولڈ میڈل جیتا 1997 میں کوالمپور میں منعقدہ ایشین باکسنگ چیمپئین شپ میں سلور میڈل جیتا 1997 میں کراچی نیں ہونے والے قائد اعظم انٹرنیشنل باکسنگ ٹورنامنٹ میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا 1997سے 2002 تک باکسنگ کی ورلڈرینکنگ میں5ویں پوزیشن پر رہا 1997 میں باکسنگ ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کیا مسلسل 14 سال تک قومی باکسنگ چیمپئین رہا کئی ممالک سے کھیلنے کی آفرز ہوئیں مگر ہمیشہ اپنے ملک کیلئے کھیلنے کوترجیح دی رشید قنبرانی کامزید کہنا تھا کہ ان کے بڑے بھائی مجید قنبرانی بھی سیف گیمز کے گولڈ میڈلسٹ اور ایشین باکسنگ چیمپئین شپ میں سلورمیڈل جیت چکے ہیں بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کھلاڑیوں کوان کی زندگی میں وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ حقدار ہوتے ہیں رشید قنبرانی نے اس موقع پر اعلی حکام سے اپیل کی کہ مہنگائی کے اس دور میں ہماری تنخوائوں کی ادائیگی کویقینی بنایاجائے۔