بند او پی ڈیز اور تڑپتے مریض

322

شہریار شوکت
کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ملک میں لاک ڈاؤن جاری ہے۔ اس لاک ڈاؤن سے جہاں کاروباری افراد پریشان ہیں وہیں ملک بھر کے وہ افراد جو مختلف بیماریوں کا شکار ہیں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ بات کسی سے چھپی نہیں کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی طبی ایمرجنسی نے جہاں زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے وہیں اسپتالوں کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹس (او پی ڈیز) کے بند ہونے سے عام مریض بھی بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ ملک بھر میں بالخصوص سندھ میں حکومتی احکامات کے تحت پرائیویٹ اسپتالوں کی او پی ڈیز بھی بند کردی گئی ہیں۔
ایک خبر رساں ادارے نے جب اس معاملے کی تحقیق کی تو خطرناک صورتحال سامنے آئی۔ صرف لاہور کے میو اسپتال کی بات کرلی جائے تو تحقیق کے مطابق اب تک وہاں او پی ڈی بند ہونے کی وجہ سے ایک لاکھ 25 ہزار یا اس سے کچھ زیادہ مریض متاثر ہوچکے ہیں۔ اسپتال میں روزانہ چھ ہزار کے قریب مریض او پی ڈی میں اپنے علاج کی غرض سے آتے تھے جبکہ او پی ڈی 15 مارچ سے بند ہے۔ اسی طرح میو اسپتال میں کل 67 آپریشن تھیٹر ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر چھوٹے بڑے 500 سے زائد آپریشن کیے جاتے تھے جو اب مکمل طور پر معطل ہیں۔ کراچی کی سول اسپتال، جناح اسپتال اور عباسی شہید اسپتال کی بھی او پی ڈیز بند ہیں ان اسپتالوں میں روزانہ ہزاروں مریض آتے تھے جو اب شدید مشکلات میں ہیں۔
یہ بات واضح رہے کہ سرکاری اسپتالوں میں علاج بالخصوص سرجری یا آپریشن کے لیے مریضوں کو کئی ہفتوں پہلے یا بعض مرتبہ کئی ماہ پہلے وقت لینا پڑتا ہے۔ مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد اپنی باری کے انتظار میں ایک طویل مدت تک اپنی بیماری اور درد کا مقابلہ کرتے ہیں ایک لمحے کے لیے سوچیں وہ افراد جنہوں نے کئی دن تک درد سے مقابلہ صرف اس انتظار میں کیا کہ جلد سرکاری اسپتال میں میرا نمبر آجائے گا اور میں اپنا علاج کرالوں گا، وہ مریض درد صر ف اس لیے برداشت کرتا رہا کیوں کہ اس کے پاس پرائیویٹ اسپتال کے اخراجات بردارشت کرنے کے وسائل نہیں تھے۔ لیکن لاک ڈاؤن نے اس کی تمام تر امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اس نعرے کو بلند کرتی حکومت اس بات سے شاید بے خبر ہے کہ ملک میں کئی ایسے مریض موجود ہیں جو اپنی بیماریوں سے لڑ رہے ہیں اور ڈر بھی رہے ہیں کہ ہمیں کچھ ہوگیا تو ہمارے گھرانے کا کیا ہوگا کیا حکومت ان کی کفالت کرے گی؟
پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی اس وقت کسی بیماری کا اسپیشلسٹ موجود نہیں۔ جہاں ایک طرف مریض اس صورتحال سے پریشان ہیں وہیں دوسرا رخ یہ ہے کہ کئی چھوٹی ڈسپنسریاں بند ہوگئی ہیں۔ ان میں کام کرنے والا عملہ جس میں استقبالیہ پر کام کرنے والا کارکن اور میڈیکل اسٹاف اپنے اخراجات چلانے کے لیے پریشان ہیں لیکن افسوس ہمارے ہاں بہت جلد کسی کو بھی مافیا بنا دیا جاتا ہے اور چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے سب کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
بلاشبہ ملک کے ڈاکٹروں کی جان سب کو ہی عزیز ہے یہ بات بھی قابل فہم ہے کہ ڈاکٹر کئی مریضوں کو دیکھتے ہیں ان سے کورونا کی بیماری پھیل سکتی ہے لیکن ملک بھر میں دیگر بیماریوں کے شکار مریضوں کی مشکلات اور تکلیفوں کا بھی حکومت کو جائزہ لینا ہوگا اور احساس کرنا ہوگا۔ اسپتالوں کی او پی ڈیز بند کرنے کے بجائے ان کے لیے بھی ایس او پیز بنانا ہوں گی۔ حکومت کو ہر ٹاؤن میں ایک عارضی سرکاری کلینک بنانا ہوگی، یہ او پی ڈیز کسی بھی اسکول میں قائم کی جاسکتی ہے۔ ان او پی ڈیز میں موجود ڈاکٹر مریض کا معائنہ کریں اور جن کی حالت تشویش ناک ہو یا جنہیں سرجری ہو انہیں اس مرض کے ماہر ڈاکٹر کو دکھانے کے لیے تجویز کیا جائے۔
اب سوال یہ ہے کہ ماہر ڈاکٹر یا سرجن آپریشن یا علاج کہاں کریں گے؟ سرکاری اسپتال تو اس وقت قرنطینہ بنا دیے گئے ہیں۔ یہ کام بھی مشکل نہیں حکومت پرائیویٹ اسپتالوں کی پارٹنر شپ سے یہ کام کرسکتی ہے۔ پرائیویٹ اسپتالوں کو پینل دیا جائے اور حکومت صحت کے بجٹ سے انہیں مناسب اور جائز معاوضہ ادا کرکے ضروت مندوں کا وہاں علاج کرائے۔ حکومت اور فلاحی اداروں کی جانب سے قائم کردہ ٹیلی ہیلتھ سینٹر مکمل ناکام ہیں۔ آخر ڈاکٹر مریض کو دیکھے بغیر اس کے مرض سے متعلق کیسے دوا دے سکتا ہے۔ اگر حکومت نے صحت کے شعبے اور ان پہلوؤں پر توجہ نہ دی تو ملک میں خطرناک حد تک دیگر بیماریوں کے شکار لوگ جان کی بازی ہار سکتے ہیں۔