امریکا،نسلی فسادات میں شدت پر تشدد مظاہرے ،ایک ہلاک

115

منیاپولس (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی ریاست مینی سوٹا میں سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے نسلی فسادات میں شدت آگئی۔ منیاپولس شہر میں پولیس کے تشدد سے سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے بعد منگل کے روز مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا،جو اب پرتشدد صورت اختیار کرگیا ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق گزشتہ روز ہزاروں افراد نے سڑکوں پر احتجاج کیا۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور پانی کی توپوں کا بھی استعمال کیا،جس سے ایک شخص زندگی کی بازی ہار گیا۔ ادھر مشتعل افراد نے سپراسٹور پر دھاوا بولا اور توڑ پھوڑ کرکے سامان لوٹ لیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق ریاستی دارالحکومت منیا پولس میں شروع ہونے والے احتجاج کی آگ دیگر شہروں تک پہنچ گئی ہے۔ ادھر صدر ٹرمپ نے سیاہ فام شہری کی ہلاکت کو المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ انصاف اور ایف بی آئی تحقیقات کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ پیر کے روز سوشل میڈیا پر وڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں ریاست مینی سوٹا کے دارالحکومت میں ایک پولیس اہل کار نے سیاہ فام شخص کو گرفتار کرنے کے لیے اس کی گردن پر گھٹنے سے دباؤ ڈال رکھا تھا۔ اس دوران وہ چلاتا رہا اور دم گھٹنے کی شکایت کرتا رہا،لیکن اہل کار نے نہیں سنا اور وہ مرگیا۔ مقتول کی شناخت 46 سالہ جارج فلوئیڈ کے نام سے ہوئی، جو مقامی ہوٹل میں سیکورٹی گارڈ تھا۔