کورونا وائرس: بھارتی میڈیا اور حکمرانوں کی چودھراہٹ

311

غازی سہیل خان سرینگر کشمیر
کورونا وائرس نے دنیا میں ہاہا کار مچا دی ہے۔ وہیں بھارتی میڈیا سے مختلف طرح کی خبریں آرہی ہیں کہیں لوگ بندشوں کے بیچ شراب کی دکانوں کے باہر شراب خریدنے میں ایسے مست ہیں کہ جیسے زندگی کی بقا کے لیے جام مفت میں تقسیم کیے جا رہے ہوں۔ اور کہیں شراب نوشی کے بعد نالیوں اور سڑک پہ مدہوشی کی حالت میں پڑے پیر وجواں۔ سماجی رابطہ کی ویب گاہوں پہ کہیں مزدوروں کو ایک شہر سے دوسرے شہر بچوں کے ہمراہ پیدل سفر کرتے دیکھا گیا تو وہیں گھر پہنچنے کے چکر میں 124سے زائد مزدور اپنی زندگی ہی سے نجات حاصل کرگئے۔ ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی فیس بک پہ گردش کر رہی ہیں جن میں غریب اور مجبور دو وقت کی روٹی کے لیے بلک رہے ہیں، مریضوں اور بزرگوں نے جیسے اب جینے کی تمنا ہی چھوڑ دی ہو۔ چند سماجی تنظیمیں اور ادارے مخلصانہ انداز میں قوم و ملت کی خدمت میں دن رات لگے ہوئے ہیں وہیں چند ضمیر فروش سماجی خدمت کے نام پر اپنے اپنے مفادات کی آبیاری میں مست ہو کے چہرے کا ایک عدد ماسک تھمانے کے بعد سیلفیاں کھینچ کے لوگوں پہ احسان جتانے کی ناکام کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
مجموعی طور پر ساری دنیا میں ریاستیں اور حکومتیں اس بیماری کے دوران عوام کی مشکلات کو دور کرنے میں ابھی تک ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔ حالانکہ اگر اس طرح کی آفات سے پہلے ہی دنیا نے اپنی اپنی چودھراہٹ کو قائم رکھنے کی ضد نہ کی ہوتی تو آج انسانیت اس طرح سے پریشان نہ ہوتی۔ اس بیماری سے شرح اموات تو خاصی کم ہیں اور آج نہیں تو کل اس بیماری سے دنیا کو نجات حاصل ہو جائے لیکن دنیا میں جو انسانیت کو اصل چیلنج ہے وہ دنیا میں بم و بارود سے مرنے والوں کو بچانا ہے، شورش زدہ علاقوں میں انسانیت کے بچائو کی سبیل کرنا ہے۔ آج بھی دنیا میں اس مہلک بیماری سے زیادہ افراد سیاسی تنازعات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں وہ چاہے افغانستان میں سکھوں اور مسلمانوں پہ حملے ہوں یا عراق اور فلسطین میں انسانیت کو مٹانے کا عمل۔ اسی طرح سے برصغیر میں ایک شورش زدہ خطہ کشمیر میں آج کی تاریخ میں بھی کورونا وائرس کی بیماری سے نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر کے سبب انسانیت تباہ کی جا رہی ہے۔ تا دم تحریر جموں کشمیر میں اس وبائی بیماری کے سبب 13؍افراد وفات پا چُکے ہیں دوسری جانب رواں سال ماہ جنوری سے لے مئی تک 115سے زائد افرادگولیوں سے مارے گئے ہیں۔ جن میں سے 25؍سے زائد فورسز اہلکار، 74؍سے زائد عسکریت پسند اور 10؍ عام شہری تنازع کشمیر کی نذر ہو گئے ہیں۔ جب ہم اس تنازعے کو انسانی نظر سے دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں رہتی کہ بحیثیت انسان جہاں ایک عسکریت پسند اور عام شہری کے مارے جانے بعد اُن کے لواحقین پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے وہیں ایک فورسز اہلکار کی نعش جب ہندوستان کے کسی شہر میں ان کے آبائی گھر پہنچتی تو وہ بھی اُن کے لیے قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ جہاں عام شہریوں اور عسکریت پسندوں کے گھر اور خاندان ہوتے ہیں وہیں فورسز اہلکاروں کے بچے بھی یتیم ہو جاتے ہیں۔ یعنی سیاسی تنازعات کے بیچ بس انسان مرتے ہیں۔
کشمیر کا تنازع بھی بڑی پیچیدگی اختیار کر گیا ہے جہاں بھارت کو ایک عسکریت پسند کی شہادت کے لیے فوجیوں کے ساتھ ساتھ ہتھیار کے استعمال میں لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں وہیں اُن لوگوں کو اپنے آشیانوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں جن میں یہ عسکریت پسند پناہ لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور پھر ایک ہنستا بستا گھر فناہ ہو کے محتاجی کی زندگی گُزارنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں۔ اکثر یہی مشاہدے میں آیا ہے کہ مفاد پرست حکمرانوں نے اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر دنیا میں انسانوں کو زندگی جینے سے محروم کر دیا۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح سے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے گزشتہ برس یہ کہتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے ریاست کو دو لخت کر دیا اور یہ کہا کہ اب کشمیر میں امن آئے گا اور کشمیر میں ملی ٹنسی ختم ہو گی وغیرہ، لیکن یہ ہم سب نے دیکھ لیا کہ خصوصی پوزیشن کی منسوخی سے بھی کشمیر میں نہ ہی ملی ٹنسی ختم ہو پائی اور نہ اس مسئلے کی وجہ سے عام شہروں کے ساتھ ساتھ فورسز اہلکاروں کی جانوں کا ضیاع بند ہوا۔ بھاجپا سرکار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان دفعات کی منسوخی سے مسئلہ کشمیر ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے اور کشمیر میں ملی ٹنسی کی بنیادی وجہ یہی خصوصی پوزیشن تھی۔ لیکن اب جموں کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کو واپس لینے کا ایک سال مکمل ہونے کے قریب بھی حالات ویسے کے ویسے ہی ہیں، جیسے 5 اگست سے قبل تھے۔ گویا کسی کو انسانوں کے مرنے یا جینے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
بھارتی میڈیا بھی صحافتی اُصولوں کی مٹی پلید کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔ کشمیر میں انسانوںکے مرنے پہ اپنے اسٹوڈیوز کو میدان جنگ بنا دیا جاتا ہے، کشمیری گھروں کے برباد ہونے پہ خوشیاں منائی جاتی ہیں، میڈیا کا کام تو امن اور انسانیت کی بقا، تعمیر و ترقی، مظلوموں کی آواز بن کے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش ہوتی ہے، لیکن بھارتی میڈیا کا حال اس مہا ماری میں بھی قابل افسوس ہے۔ جہاں کورونا وائرس کو میڈیا اداروں کی جانب سے مذہب یعنی مسلمانوں کا لباس پہنا دیا گیا ہے وہیں دوسری طرف سے بھارتی حکومت کی جانب میڈیا کے اس جانبدار رویہ پہ ان کی حوصلہ شکنی کے بجائے کھلے عام ان کی حمایت میں آگئے اور تبلیغی جماعت کے ارکان کے خلاف مقدمہ درج کر کے دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی گئی کہ وبائی بیماری کے پیچھے مسلمانوں کا ہاتھ ہے۔ تاہم جب ملک کے مختلف شہروں میں شراب کی دکانوں کو کھولنے کا حکم دیا گیا تو وہاں جمع ہزاروں کی بھیڑ اور سماجی دوری کے اُصولوں کی دھجیاں اُڑانے کے باوجود بھارتی میڈیا کے کیمروں میں وہ مناظر قید نہیں ہو پائے۔
مجموعی طور پہ دنیا میں سیاسی چودھریوں کو ہتھیاروں کے بے دریغ استعمال اور انسانی خون کے چسکے کے سبب انسانوں کی حالت قابل رحم بن گئی ہے، اسی لیے تو بھارتی عوام کو دو وقت کی روٹی کے لیے ترسنا اور تڑپنا پڑتا ہے، بیماروں کو اپنے علاج کے لیے بھیک مانگنی پڑتی ہے، بچوں کو اچھی تعلیم سے محروم ہونا پرتا ہے، سماجی اور معاشی نظام تباہی کے دہانے پہ ہے۔ دنیا کے حکمرانوں کی طرح بھارتی حکمرانوں کی انسانیت کی بقا کے لیے سنجیدگی کم ہی دکھائی رہی ہے بلکہ بس انسانیت کی تباہی کا سامان جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن یہ سب تلخ حقائق میڈیا دکھانے کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ان کا کام بس یہ رہ گیا ہے کہ جھوٹ کو اتنی بار بولو کہ وہ سچ لگے۔ میں نے اپنے ایک مضمون میں ہندوستان میں شعبہ صحت کی حالت کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’’جہاں ایک طرف عالمی ادارہ صحت نے دنیا کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ہر ملک اپنی GDP کا 4-5فی صد شعبہ صحت پر خرچ کرے، وہیں ہندوستان آج محض 1.4 فی صد ہی خرچ کررہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پورے ہندوستان میںسرکاری اسپتالوں میں 7,13,986 بیڈ ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ 0.55 بیڈ ایک ہزار کی آبادی کے لیے دستیاب ہیں۔ اب اس وبائی مرض کے سبب آج ہندوستان میں 5سے 10فی صد تک کورونا کا شکار ہوئے مریضوں کو وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہے 24مارچ کو center for disease dynamics,economics and policies کے نام کے ایک امریکی تحقیقی ادارے نے کہا ہے کہ ہندوستان میں اس بیماری سے لڑنے کے لیے آئی سی یوز اور وینٹی لیٹرز کی کمی ہے۔ اس مہا ماری میں بھارت کے مختلف شہروں سے مزدروں کی گھر واپسی کے لیے ان کا ہزاروں میل پیدل چلنا حکومت کی نا اہلی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ بھارتی میڈیا امن کی خاطر، غریبی اور بیماری کے خلاف لڑتا ملک کی تعمیر و ترقی میں رول ادا کرتا اور حکمران تعصب اور فرقہ پرستی کو چھوڑ کے انسانیت کو بچانے کا کام کرتے، بھوکھوں کے کھانے کا انتظام کرتے، گھروں کو زمین بوس کرنے کے بجائے گھروں کو تعمیر کرتے، مسائل کو فوجی طاقت کے ذریعے حل نہیں بلکہ حقیقی جمہوری طریقے سے حل کرتے۔ پھر کسی کا بچہ یتیم نہیں ہوتا، کسی بہن کو اپنا بھائی نہیں کھونا پڑتا، کسی بُزرگ باپ کو اپنا سہارے نہ کھوتا پڑتا، بھارت کے کسی شہری کو اپنے فوجی بیٹے کی نعش فوجی وردی میں نہ ملتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وبائی بیماری میں میڈیا اور اقتدار کی کرسیوں پہ براجمان حکمرانوں کو چاہیے کہ بلا تفریق رنگ و نسل، مذہب و ذات انسانیت کو راحت کا سامان مہیا کیا جائے اور تمام سیاسی تنازعات کو حل کیا جائے تاکہ انسانیت سسک سسک کہ فناہ نہ جائے۔