کورونا وائرس‘ نجات کی راہ کیا ہے؟

913

ڈاکٹر طاہر مسعود
پچھلے سے پچھلے کالم میں ہم نے کورونا وائرس کے عالمی اثرات کی بابت لکھا تھا کہ یہ جرثومہ دنیا کے معاملات میں قدرت کی براہ راست مداخلت ہے جس کے نتیجے میں اب دنیا ویسی نہیں رہے گی جیسی کہ یہ ہے۔ یہ کالم میرے برادر بزرگ سید خالد مسعود نے فیس بک پر ڈال دیا جس پر بہت سے پڑھنے والوں کے تبصرے آئے۔ ان ہی میں ایک تبصرہ ممتاز کالم نگار شہناز احد صاحبہ کا تھا۔ انہوں نے تبصرہ کیا: کاش ہم اس اشارے کو سمجھ سکتے۔ بات بڑی وزنی تھی۔ واقعی جب قدرت کے کاموں پر ہم کوئی تبصرہ کرتے ہیں تو ہمارے پاس وہ ٹھوس شواہد اور دلائل نہیں ہوتے جن کی بنا پر ہم یہ دعویٰ کرسکیں کہ قدرت کا یہ اقدام اس مقصد کے لیے ہے۔ قدرت جو کچھ کرتی ہے اس کی بابت ہم صرف اندازے لگا سکتے ہیں یا قیاس آرائی کرسکتے ہیں۔ حقیقی علم یا ایسا یقینی علم ہمارے پاس نہیں ہوتا جس کی بنا پر ہم کوئی دعویٰ کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت کورونا وائرس کے پھیلائو اور نقصانات کی بابت دو رویے پائے جاتے ہیں۔ ایک قسم کے لوگ تو وہ ہیں جو اس میں سازشی تھیوری تلاش کررہے ہیں۔ جن کا گمان ہے کہ یہ جرثومہ ایک عالمی طاقت نے مخصوص مقاصد کے حصول کے لیے پھیلایا ہے۔ گو ثبوت اس کا بھی کوئی نہیں ہے۔ بس یہ سازشی تھیوری صرف تھیوری کی حد تک ہے۔ البتہ اس کے گرد اندازوں اور قیافوں کا ایک طومار باندھا جارہا ہے۔ لیکن اس تھیوری پر جو سوالات اور اعتراضات اُٹھائے جارہے ہیں ان کا کوئی واضح جواب اس تھیوری کو پیش کرنے والوں کے پاس بھی نہیں ہے۔ دوسرا رویہ ہم جیسے مذہبی لوگوں کا ہے جو کورونا وائرس کو ایک آسمانی عذاب سے تعبیر کررہے ہیں اور جن کا کہنا یہ ہے کہ یہ جرثومہ دنیا سے ظلم و استیصال، طاقت کا عدم توازن اور عدم مساوات اور ایسے ہی دوسرے مسائل کے خاتمے کے لیے آیا ہے۔ انسانی تعلقات میں پائی جانے والی منافقت، بے حسی اور بے دردی اور اندرونی پراگندگی کو خود انسانوں پر منکشف کرکے ان کی اصلاح اور سدھار کے لیے یہ جرثومہ آیا ہے جس کی طرف ہم نے کسی کالم میں اشارہ بھی کیا ہے۔ ظاہر ہے یہ دوسرا رویہ جو ہے یہ بھی قیاس آرائی اور قیافے پر مبنی ہے اور اس کے لیے ہمارے پاس کوئی آسمانی علم ایسا نہیں ہے جو ہماری قیاس آرائی کو ٹھوس طریقے سے ثابت کرسکے۔ البتہ ہمارے پاس دلیل ایسی ہے جس کا تعلق تاریخ میں اور ماضی میں پیش آنے والے ایسے واقعات، حادثات اور سانحات سے ہے جس کو مذہبی علم نے خدائی عذاب سے تعبیر کیا ہے اور یہ عذاب اس وقت آئے جب خدا کی زمین کفر و انکار سے اور ظلم و معصیت سے بھر گئی جس کو دور کرنے کے لیے خدا نے اپنے برگزیدہ بندوں کو بھیجا جنہیں ہم نبی یا رسول کہتے ہیں۔ اور جب ان برگزیدہ بندوں سے بھی اصلاح ممکن نہ ہوئی تو خدا نے اس امت کو اپنے عذاب اور سزا سے تباہ و برباد کردیا۔ یہ تاریخ اور ماضی کا سبق ہے جس کی روشنی میں ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ خدا آج بھی زمین کے معاملات سے بے نیاز اور لاتعلق نہیں ہے۔ وہ آج بھی انسانی زندگی اور دنیاوی معاملات میں پوری طرح دخیل ہے جس کی تصدیق گردوپیش کے مشاہدے اور مکافات عمل کے قانون سے کرسکتے ہیں۔ ظالم کو اس دنیا میں سزا مل کر رہتی ہے اور بدی کا انجام آخر کار بُرا ہی نکلتا ہے۔ منفی اور تخریبی رجحان و رویے، طاقت پر انحصار انسانوں پر مظالم اور انسانیت کی تحقیر ایسی قوتوں کی تباہی اور بربادی پر منتج ہوتی ہے، قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ کا مطالعہ بھی یہی بتاتا ہے کہ تبدیلی، تغیر اور انقلاب قدرت کا ایک مستقل قانون ہے جس کے ذریعے بدتر کی جگہ بہتر کو لایا جاتا ہے۔ پچھلے کالم میں ہم نے یہی لکھا تھا کہ قدرت ظلم کو ایک حد تک برداشت کرتی ہے اور پانی جب سر سے اونچا ہوجاتا ہے تو تبدیلی کا پہیہ گھومنے لگتا ہے۔ طاقتور، کمزور اور کمزور طاقتور ہوجاتا ہے۔ اس وقت عالمی سامراجی طاقتوں نے دنیا میں ظلم کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس کو ختم کرنے کے حقیقت پسندانہ راستے مسدود ہوچکے تھے، لہٰذا آثار و قرائن یہی بتاتے ہیں کہ قدرت نے اس جرثومے کے ذریعے دنیا کو بدلنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ چناں چہ یہ صرف ہمارا نہیں عالمی معاملات و امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پوسٹ کورونا وائرس دنیا کے سیاسی اور معاشی حالات بدل جائیں گے۔ ڈبلیو ایچ او کا انتباہ ہے کہ لوگوں کو کورونا وائرس کے ساتھ خود کو جینے کا عادی بنالینا چاہیے۔ جس کی تعبیر ہمارے نزدیک یہ ہے کہ یہ جرثومہ جس مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے وہ اس وقت تک اپنا کام کرتا رہے گا جب تک مطلوبہ نتائج پیدا نہ ہوجائیں۔ اس میں تخصیص مسلم و غیر مسلم یا صاحب ایمان اور ایمان سے محروموں کی نہیں۔ یہ سارا معاملہ ظلم و استیصال کے اس نظام کو بدلنے سے ہے جو دنیا پر مسلط کردیا گیا ہے۔ چناں چہ امریکا، کینیڈا اور یورپ ہو یا مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک سبھی اس جرثومے کی لپیٹ میں ہیں۔ پٹرول کی دولت پر عیش و تمرّد کرنے والے بھی اس جرثومے سے اسی طرح متاثر ہیں جس طرح سرمایہ دارانہ معیشت کے ذریعے دولت اور وسائل کو چند ہاتھوں میں محدود کردینے والے۔ یہ غیر مرئی جرثومہ انسان کی بے بسی اور بے حقیقی کو بھی منکشف کرنے آیا ہے۔ یہ انسان کی بڑائی اور عظمت کا پول کھولنے کے لیے بھی ہے تا کہ وہ غرور اور گھمنڈ جو انسانوں کے اندر فطرت کو مسخر کرنے، دنیا کو گلوبل ویلیج بننے اور ایجادات و اختراعات کے ذریعے محیّر العقول تبدیلیاں لانے کی فتوحات نے پیدا کردیا ہے۔ بے شک انسان ہی تمام مخلوقات میں اشرف و افضل ہے۔ کیوں کہ خداوند تعالیٰ نے انسان کو اپنی صورت پر خلق کیا ہے اور ادانیٰ درجے پر اپنی جملہ صفات سے اسے متصف کیا ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کو صرف مختار نہیں مجبور بھی بنایا گیا ہے۔ بندگی کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی فتوحات پر تکبر و گھمنڈ میں مبتلا نہ ہو بلکہ عاجزی اور فروتنی اختیار کرے۔ انسان بڑائی اختیار کرکے اپنے ہی جیسے انسان کو اپنا غلام نہ بنائے۔ درد مندی، محبت اور عفو و درگزر کو ہی اپنا شعار بنائے۔ مگر المیہ تو یہی ہے کہ انسان کسی بھی المناک وقوع سے سبق نہیں سیکھتا۔ واقعات کے پیچھے چھپے ہوئے محرکات کو تلاش نہیں کرپاتا۔ دیکھ کر بھی نہیں دیکھتا اور سن کر بھی نہیں سنتا۔ اس لیے کہ وہ عقلمند ہو کر بھی کم عقل ہے اور سمجھدار ہو کر بھی ناسمجھ ہے۔ کم عقلی اور ناسمجھی کا یہ پرفریب طلسم اس وقت ٹوٹتا ہے جب اس پر مصیبت پڑتی ہے، جب خوف و دہشت اور سراسیمگی اور احساس عدم تحفظ اسے گھیر لیتے ہیں تب اس پر کھلتا ہے کہ نہیں وہ زمین پر سب کچھ کرنے کے لیے آزاد نہیں ہے۔ کوئی اور قوت بھی ہے جو اس کے معاملات میں دخیل ہے۔ ایسی قوت جو اس کے ارادوں کو توڑ دیتی ہے اور اس کے اندازوں کو غلط ثابت کردیتی ہے۔ حیرت ہے تو اس بات پر کہ قدرت کی ایسی صریح اور واضح نشانیوں کے باوجود انسان غفلت اور بے خبری میں بدستور گھیرا ہوا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ چلو کوئی بات نہیں۔ ہم جرثومے کے ساتھ ہی جینا سیکھ لیں گے۔ ہاتھ دھوتے رہیں گے اور ہاتھ ملانے سے پرہیز کرلیں گے۔ دوستوں اور عزیزوں سے گلے نہیں ملیں گے مگر اپنے اندرون اور باطن کو صاف نہیں کریں گے۔ ہم جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے، ہم نہیں بدلیں گے، انسان کی یہ اکڑ، یہ ہٹ دھرمی جب تک رہے گی جرثومہ بھی رہے گا۔ قدرت جب ایک کام کا ارادہ کرلیتی ہے تو وہ کام ہر قیمت پر ہو کر رہتا ہے۔ چناں چہ جرثومے کے اثرات و نتائج کے بارے میں ایک کنفیوژن ہے۔ آئندہ کیا ہوگا؟ ہم کب تک اسی لاک ڈائون میں گرفتار رہیں گے؟ ایک نارمل زندگی کب شروع ہوگی؟ ان سارے سوالوں کے جواب میں ایک کنفیوژن ہے۔ کسی کے پاس ان سوالوں کا جواب نہیں، انسان کا سارا علم، ساری بصیرت اور عقل مندی ٹھکانے لگ گئی ہے۔ اس کا کوئی حل نہیں۔ حل ہے تو فقط اس میں کہ ہم مان لیں کہ ایک عذاب ہے، ایک آزمائش ہے جس میں ہم مبتلا کردیے گئے ہیں اور اس سے نجات اسی طرح ممکن ہے کہ ہم صحیح طور پر سوچنا سیکھ لیں۔ اپنی بے بسی اور بے اختیاری کا اعتراف کرکے آسمان کی طرف ایک بار سر اٹھا کر دیکھ لیں۔ اپنے وجود کی پراگندگی سے نکلنا اور نکل کر اس بزرگ و برتر خدا کی ذات سے رابطہ کرلیں تا کہ وہ ہم پر مہربان ہوجائے۔ ہمیں معاف کردے اور جس تکلیف دہ الجھن اور پریشانی میں ہم ڈال دیے گئے ہیں اس سے ہمیں وہ نجات دے دے کہ نجات کا یہی واحد اور آخری راستہ ہے۔