یوم تکبیر، دفاعِ وطن ناقابل تسخیر

471

خان فہد خان
قیام پاکستان سے لیکر آج تک بھارت پاکستان کی سا لمیت و بقاء کے خلاف ناپاک منصوبے بناتا آ رہا ہے اور پاکستان کو کسی نہ کسی طریقہ سے غیر مستحکم کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا رہتا ہے۔ بھارت اپنے ناپاک عزائم کے حصول کے لیے قیام پاکستان کے دو ماہ بعد ہی 22اکتوبر 1947 کو کشمیر میں کود پڑا اور ایک نوزائدہ ملک (پاکستان) کے لیے جنگ کا محاذ کھول دیا۔ اس جنگ سے پاکستان کی زیر تعمیر بنیادیں لرز کر رہ گئیں اور بھارت نے جنت نظیر وادی کشمیر پر ظالمانہ قبضہ کر لیا جو آج بھی قائم ہے۔ بھارت ناپاک عزائم لیے ایک بار پھر 1965 میں رات گئے پاکستان پرچڑھ دوڑا لیکن دشمن کے جنگی جنون سے واقف پاک فوج نے اس جنگ میں بھارت کو منہ توڑ جواب دیا۔ شکست کے بعد بھارت کی بے چینی مزید بڑھ گئی اور بدلے کی آگ میں جلتے بھارت نے چند سال بعد پھر 1971 میں جنگی محاذ کھول کر مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کردیا۔ اس کے بعد بھارت نے خطے میں اپنی چودھراہٹ مزید مضبوط کرنے کے لیے 18مئی 1974 کو راجستھان میں پوکھران کے مقام پر اپنا پہلا ایٹمی دھماکا کیا جس کے بعد خطہ میں طاقت کا عدم توازن پیدا ہو گیا۔ طاقت کے نشے میں چور بھارت دن رات بہت سی دھمکیاں اور گیدڑ بھبکیاں مارتا رہا جس سے پاکستان کی پریشانیاں مزید بڑھ گئیں۔ حکومت پاکستان نے اس عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے سوچ و بچار شروع کردی کہ جلد طاقت کا توازن بنایا جائے اور آخر کار 1974 ہی میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات حاصل کرتے ہوئے کہوٹا پروجیکٹ کے نام سے ایٹمی طاقت کے حصول کے لیے کام شروع کر نے کا حکم دیا۔
ڈاکٹر منیر احمد اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زیر قیاد ت پاکستان ایٹامک انرجی کمیشن بنایا گیا جس نے باقاعدہ کہوٹا ریسرچ لیباٹریز میں کام کا آغاز کیا۔ پاکستان میں سیاسی صورت حال تبدیل ہو تی رہی مگر ہر حال میں ہر سربراہ مملکت نے ایٹامک انرجی کمیشن سے تعاون جاری رکھا اور یوں اس پروجیکٹ پر کام چلتا رہا اور تمام سائنسدانوں کی نو سال کی بے مثال محنت کے بعد11مارچ 1983 کو اپنا پہلا کولڈ ٹیسٹ کیرانہ سرگودھا کی پہاڑیوں میں کیا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ یعنی ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ پاکستان 1983 میں ایٹمی طاقت بن گیا تھا لیکن پاکستان نے اس حوالے سے کامیابی کو دنیا سے خفیہ رکھا۔ مگر پھر بھی دنیا بھر میں چہ مگوئیاں ہوتی رہیں مگر پاکستان نے اس کو حقیقت تسلیم نہ کیا اور خفیہ طور پر مزید کام جاری رکھا۔ اس کے بعد 1984 میں بھی کہوٹا کے مقام پر ایک مزید کولڈ ٹیسٹ کیا گیا جو کامیاب رہا جو سائنسدانوں کی کامیابی کی ضمانت اور پاکستان کی سلامتی کے لیے اُمید تھا۔ اسی طرح وقت گزرتا گیا سائنسدان پاکستان ایٹمی طاقت میں مزید بہتری اور جدت کے لیے کام کرتے رہے اور پاکستان کے ایٹمی انرجی پر کام سے متعلق ساری دنیا کو معلوم ہو گیا اور یورپی ممالک خاص طور پر امریکا نے پاکستان کو اس پر مزید کام کرنے سے روکنے پر مجبور کیا اور بہت سی دھمکیاں اور لالچ بھی دیے۔ مگر پاکستانی سائنسدان یا حکمران کوئی دھمکی یا لالچ خاطر میں نہ لائے اور نیوکلیئر پروگرام پر کام جاری رکھا۔
وقت کی چلتی سانسیں کون روک سکتا ہے چلتے چلتے وقت آگیا 13مئی 1998کا جب بھارت نے پوکھران میں مزید پانچ ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو نیچا دیکھانے کی کوشش کی تو پاکستان میں کھلبلی مچ گئی اب صورت حال پیچیدہ ہو گئی ایٹمی دھماکوں کی صلاحیت تو پاکستان بھی حاصل کر چکا تھا مگر اس طاقت کے اظہار کے لیے عالمی حالات موافق نہیں تھے۔ پاکستانی حکمرانوں پر شدید دبائو تھا ایک طرف عوام اور سائنسدان بھارت کو اس کی زبان میں جواب دینا چاہتے تھے تو دوسری جانب امریکا اقتصادی پابندیوں کی دھمکی دے رہا تھا۔ اس ساری صورت حال میں حکومت پر دبائو بڑھ گیا اور حکومت وقت کوئی حتمی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ یاد رہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم نوازشریف کی کابینہ میں بیٹھے لوگ اس بات پر متفق تھے کہ دھماکے نہ کیے جائیں ورنہ پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگا دی جائیں گی اور معیشت بیٹھ جائے گی۔ اس وجہ سے ایٹمی دھماکوں کا پروگرام موخر کردیا گیا لیکن سائنسدانوں کی جانب سے وزیر اعظم کو ایک خط لکھا گیا کہ اگر آپ نے اب ایٹمی دھماکوں کے لیے جُرأت نہ کی تو ہم کبھی ایٹمی دھماکے نہیں کر سکیں گے۔ ہماری محنت رائیگاں جائے گی۔ اس خط نے وزیر اعظم نوازشریف کی سوچ بدلی اور اس کے جواب میں نواز شریف نے قومی مفاد میں بیرونی دبائو کو نظر انداز کرتے ہوئے ایٹمی دھماکوں کی اجازت دے دی۔ 28مئی 1998کا سورج پاکستان کی سربلندی اور سلامتی کا ضامن بن کر طلوع ہوا۔ خفیہ پروگرام کے تحت 28مئی 1998 کو سہ پہر 3بجے نعرہ تکبیر کے ساتھ ہی چاغی کی پہاڑیاں پانچ ایٹمی دھماکوں سے لرز اُٹھیں اور پاکستان دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا۔ ان ایٹمی دھماکوں نے بھارت کا غرور خاک میں ملادیا اور پاکستان کی عزت و وقار میں اضافہ کیا۔ جس دن ایٹمی دھماکے کیے گئے اسے یوم تکبیر کا نام دیا گیا یہی وہ دن تھا جب دفاعِ وطن ناقابل تسخیر ہوا۔ اس کے ساتھ ہی دنیا کو واضح پیغام بھی گیا کہ پاکستان خود مختار، باختیار ملک ہے جو اپنی جغرافیائی حدود کے تحفظ اور دشمن کو اس کی زبان میں جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ الحمد للہ