بھارت کی بین الاقوامی شرپسندی

439

بھارت کی شر پسندی ہر ُسو جاری ہے ۔ کون سی سرحد ہے جہاں پر بھارت اپنے ہمسایوں کے ساتھ سینگ اڑائے ہوئے نہیں ہے ۔ نیپال اور چین کے ساتھ تو باقاعدہ سرحدی جھڑپیں ہوچکی ہیں ۔ بنگلا دیش بھی بار بار بھارت کو متنبہ کرچکا ہے ۔ سب سے زیادہ برے حالات پاکستانی سرحد پر ہیں ۔ نیپال کی سرحد پر بھارت نے نیپال کے علاقے میں سڑک کی تعمیر شروع کی تھی جس پر ہندو اکثریتی ریاست نیپال کے بھارت کے ساتھ تعلقات اس وقت تاریخ کی کم ترین سطح پر ہیں ۔ یہی حرکت بھارت نے چین کے ساتھ سرحدی علاقے میں کی بلکہ حد ہی کردی اور سڑک کے ساتھ ساتھ رن وے کی تعمیر بھی شروع کردی ۔ اس پر چین نے وہی کچھ کیا جو ایک غیرتمند قوم کو کرنا چاہیے تھا اور بزور قوت بھارت کو اپنی سرزمین پر قبضہ کرنے سے روک دیا ۔ اصل میں بھارت نے لداخ کی حیثیت کی تبدیلی کی وہی کوشش کی تھی جو اس نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ساتھ 5 اگست کو کی ہے ۔ بھارت نے 5 اگست کو ببانگ دہل مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل کردی تھی اور پاکستان یوں منہ میں گھنگنیاں ڈالے بیٹھا رہا جیسے بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر قبضہ نہ کیا ہو بلکہ پاکستان کو دوستی کا سندیسہ بھیجا ہو ۔ پاکستان کی مجازی یا حقیقی قیادت کی جانب سے کوئی عملی قدم اٹھانا تو دور کی بات، اقوام متحدہ کی ہونے والی جنرل اسمبلی کے اجلاس تک میں نہ تو کوئی قرار داد پیش کی گئی اور نہ ہی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں کوئی تحریک پیش کی گئی ۔ اگر اقوام متحدہ میں کوئی ہل چل نظر آئی تو اس کی وجہ ملائیشیا اور ترکی کی جانب سے کی جانے والی سفارتی پیش قدمی تھی ۔ پاکستان تب بھی بھارتی دراندازی پر سر جھکائے خاموش بیٹھے رہ کر بھارت کے ہر اقدام کی عملی حمایت کرتا رہا ۔ اب چین نے اپنے سرحدی علاقے کی کامیاب حفاظت کی ہے تو پاکستان کے مجازی اور حقیقی حکمراں ایسے شادیانے بجارہے ہیں جیسے انہوں نے ہی اپنی سرزمین کی کامیاب حفاظت کی ہو۔5 اگست سے ہی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام محاصرے کی حالت میں ہیں ،ا ن کے ساتھ وہی کچھ سلوک کیا جارہا ہے جو اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ کررہا ہے ۔ کشمیریوں کی جان و مال کے علاوہ عزت و آبرو بھی محفوظ نہیں ہے ۔ کشمیریوں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے کشمیر میں شہریت کا قانون تبدیل کردیا گیا ہے اور اب پورے بھارت سے ہندوؤں کو خاص طور سے کشمیر میں لا کر بسایا جارہا ہے ۔ بھارت روز کنٹرول لائن پر فائرنگ کرکے پاکستان کے علاقے میں بسنے والی سول آبادی کو نشانہ بناتا ہے ۔ اگر پاکستان بھی چین یا نیپال کی طرح پہلے ہی قدم پر بھارت کو روک لیتا تو یہ سب کچھ نہ ہوتا مگر پاکستان نے اس کے بالکل برعکس کیا اور بھارت کو ہر معاملے میں واک اوور دیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے اس پورے معاملے پر کیوں خاموشی اختیار کی ، کیوں پاکستان نے بھارت کو واک اوور دیا اور کیوں پاکستان کی شہ رگ بغیر کسی مزاحمت کے بھارت کے حوالے کردی ۔ جب معلوم ہے کہ عالمی بینک ہر معاملے پر بھارت کا ساتھ دیتا ہے ،تو کشن گنگا ڈیم کا معاملہ کیوں عالمی بینک میں لے کر گئے ۔ اگر یہ صورتحال یوں ہی چلتی رہی تو بھار ت پہلے سینٹرل پنجاب اور پھر سندھ پر دعویٰ دائر کردے گا پھر ایران اور افغانستا ن کو شہ دے گا کہ وہ بلوچستان اور خیبرپختون خوا پر دعویٰ دائر کردیں اور بھارت کی طرح ان علاقوں پر عملی قبضہ کرلیں ۔ یوں ایک ایک کرکے سارے پاکستانی علاقے دوسرے ممالک میں چلے جائیں گے اور پاکستان کے حقیقی اور مجازی حکمراں اپنی قوم کو بتاتے رہیں گے کہ جنگ اقوام کے لیے خطرناک ہے ۔ ایک بار طے کرلیں کہ جنگ نہیں کرنی۔ فوج کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران اس وقت سارے ہی سویلین اداروں کی اہم ترین پوسٹوں پر تعینات ہیں جس کے باعث مطلوبہ پیشہ ورانہ استعداد کے حامل افراد کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ سارے ہی ادارے بھی اب تباہی کے گڑھے میں جا گرے ہیں ۔ قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے طیارے کی حالیہ تباہی میں ہی دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کے ذمہ دار سول ایوی ایشن اتھارٹی کا ائروردینیس کا محکمہ اور پی آئی اے ہے ۔ پی آئی اے کے ہر شعبہ میں پاک آرمی اور فضائیہ کے حاضر سروس افسران براجمان ہیں جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ائروردینیس اور دیگر شعبہ جات کی یہی صورتحال ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے پر پاکستان کا ردعمل نہ ہونے کے برابر اوربھارت کی موافقت میں ہی رہا ۔ حتیٰ کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ نہ تو تجارت بند کی اور نہ ہی بھارتی فضائی کمپنیوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود بند کیں ۔ پاکستان نے ہر اس اقدام سے گریز کیا جس سے بھارت کو کسی بھی سطح پر کسی بھی قسم کی سبکی یا نقصان کا اندیشہ ہوتا ۔ جب پاکستان کو بھارت کے کسی بھی اقدام پر نہ تو کوئی تشویش ہے اور نہ ہی شکایت تو پھر پاکستان کے لیے کوئی مسئلہ ہی باقی نہیں رہتا ۔ نیپال اور چین جو کچھ کررہے ہیں وہ ان کی قومی حمیت کا تقاضہ ہے اور پاکستان جو کچھ کررہا ہے وہ اس کے مجازی اور حقیقی حکمرانوں کی پالیسی ہے ۔