عدالت عظمیٰ لاک ڈائون سے متعلق جلد فیصلہ کرے

230

عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق لاک ڈائون میں نرمی 8 جون تک ہے۔ 8 جون کے بعد عدالت جائزہ لے گی کہ کتنا لاک ڈائون رکھنا ہے اور کتنا نرم کرنا ہے، کیا چیز کھولی جائے اور کیا نہیں۔ لیکن عدالت عظمیٰ کی کسی سماعت اور کسی فیصلے سے پہلے ہی حکومتوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔ یکم جون سے سخت اور مکمل لاک ڈائون کر دیں گے۔ اور حکومت سندھ نے بھی ایسی ہی دھمکی دی ہے۔ دُنیا بھر کی صورتحال پاکستان کے مقابلے میں بالکل مختلف ہے۔ سعودی عرب جہاں 76 ہزار سے زیادہ کیس سامنے آئے۔ صرف 411 کی موت واقع ہوئی اور 48 ہزار سے زیادہ صحت یاب ہوئے۔ یہاں اب صرف مکہ میں لاک ڈائون ہے اور عمرے پر پابندی ہے۔ باقی سارے سعودی عرب میں نرمی کر دی گئی ہے۔ وہاں میں جہاں ایک لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں جون کے آخر تک کھولے جانے والے شعبوں کا باضابطہ اعلان کردیا گیا ہے۔ امریکا میں جو ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے اس میں ایک ایک شعبے کا ذکر ہے کہ کون سا کب کھولا جائے گا۔ لیکن کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ پچاس ہزار جرمانہ ہوگا اور ایک دکان میں احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی پر پوری مارکیٹ بند کرنے کی دھمکی بھی نہیں دی گئی۔ پورے ملک میں خوف کی فضا میڈیا اور حکمرانوں نے پھیلا رکھی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اگر نوٹس لیا ہے تو اس معاملے پر جلد غور کیا جائے اور جلد فیصلہ کیا جائے۔ صرف میڈیا کی ہولناک قسم کی خبروں کی بنیاد پر فیصلے نہ کیے جائیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اپنے بیان میں یہ توجہ دلائی ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی جا رہی ہیں، ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ عید کے فوراً بعد فیصلے پر نظرثانی کریں گے۔ وفاقی حکومت، این ڈی ایم اے اور سندھ حکومت میں بھی تضادات ہیں۔ عیدالفطر پر عدالت عظمیٰ کی جانب سے نرمی کے بعد سے صرف ایک موضوع پر وفاق اور سندھ میں اتفاق ہے اور وہ یہ کہ نرمی سے کورونا پھیلے گا۔ لیکن منگل کے روز چیئرمین این ڈی ایم اے کہتے ہین کہ 50 فیصد وینٹی لیٹرز بھی استعمال نہیں ہوئے۔ سڑکوں پر علاج کا خوف دلانے والے کیا چیئرمین این ڈی ایم اے کی رپورٹ کو بھی غلط قرار دیں گے؟ سب ملک کر خوف پھیلانے سے گریز کریں۔ عدالت عظمیٰ میڈیا کو بھی اس سے باز رکھے۔