نقطہ نظر

210

طیارہ حادثہ: تحقیقات جلد پیش کی جائیں
وطن عزیز کے معصوم شہری ایک بار پھر المناک سانحے کا شکار ہوئے۔ یہ درست ہے کہ موت کا وقت اور دن مقرر ہے۔ اللہ کی مرضی کے بغیر پتا بھی ہل نہیں سکتا۔ مومن کو اللہ کی رضا میں راضی رہنا چاہیے۔ اور یہ بھی کہ اللہ پاک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یہ تو اللہ پاک کا بہت بڑا احسان ہے کہ ہمارے اعلیٰ دینی عقاید ہمیں ہر بار سہارا دیتے ہیں اور ہمیں اتنے اندوہناک حادثات کے بعد بھی جینے کی امنگ اور حوصلہ دیتے ہیں۔ لیکن ہر تھوڑے عرصے بعد وقوع پزیر ہونے والے ان حادثات میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب اداروں سے کوئی حساب لینے والا موجود نہیں ہے کیا؟!! کیا ارباب اقتدار کا فرض نہیں کہ وہ حادثات کی مکمل ’’شفاف اور فوری تحقیقات کروائیں اور غفلت کے مرتکب اداروں کو کڑی سزائیں دلوائیں؟‘‘ کیا حکمران پارٹیوں کو عوام نے ووٹ اس لیے دیا تھا کہ وہ صرف اپوزیشن یا مخالفین کے خلاف کاروائیں کریں؟؟ کیا سال ہا سال سے اقتدار کے مزے لوٹنے والوں کے فرض میں عوام کی جان ومال کا تحفظ شامل نہیں؟؟۔ سادہ لوح عوام اپنے مسائل کس کے پاس لے کر جائیں؟
بدقسمت ’’پی آئی اے‘‘ طیارہ انجن میں خرابی کے باعث ایمرجنسی لینڈنگ کی کوشش میں تباہ ہوا۔۔ لیکن وزیر ہوا بازی غلام سرور صاحب سارا الزام ائر پورٹ کے اطراف کی اراضی میں موجود غیر قانونی تعمیرات پر ڈال کر خود اپنی ذمے داری سے بچنے کا بھونڈا جواز تلاش کر رہے ہیں۔ تجاوزات کو بھی اس حادثے کے محرکات میں شامل کیا جا سکتا… لیکن غور طلب بات تو یہ ہے کہ یہ عمارات تو سال ہا سال سے وہیں پر موجود ہیں۔ لیکن سول ایوی ایشن کے محکمے نے کبھی اس مسئلے کی نشاندہی کی اور نہ ہی اس کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے اس کے سد باب کی کوشش کی۔ بد قسمت جہاز نے انجن خراب ہونے کی اطلاع کنٹرول ٹاور کو دی، مگر یہاں بھی سول ایوی ایشن کی وہی مجرمانہ غفلت دیکھنے کو ملی۔
فلائٹ آپریشن سے پہلے مکمل چیکنگ کر کے جہاز کو این او سی دینے والے سول ایوی ایشن کے محکمے اپنے فرائض انجام دینے کی کتنی صلاحیت اور مہارت رکھتے ہیں، اس کی مکمل تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں۔ تین ماہ کے دوران مکمل رپورٹ بنانے کی یقین دہانی کروائی جا رہی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج تک ہونے والے کسی ایک بھی حادثے کے ذمے داران کو تحقیقات کے ذریعے عوام کے رو برو پیش کیا گیا ہے کیا؟؟ مارگلہ جہازکریش، چترال فوکر کریش، تیز گام آتشزدگی، رحیم یارخان آئل ٹینکر حادثہ اور بلدیہ ٹائون آتشزدگی جیسے۔ ناقابل فراموش خوفناک حادثات میں سے اب تک کسی ایک کی بھی مربوط اور مفصل تحقیقاتی رپورٹس عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔ اگر ارباب اختیار بحیثیت ملک کے ’’نگہبان اور سرپرست‘‘ کے درد دل کے ساتھ تحقیقات کرتے تو شاید ایسے سنگین حادثات میں کسی حد تک کمی آجاتی، مگر جب غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں تو پھر اربوں روپے کمانے والی کمپنیاں بھی کیوں اپنا سرمایہ حادثات سے بچائو کے لیے حفاظتی انتظامات پر صرف کریں؟ خدارا چند روزہ اختیارات کو دائمی نہ سمجھیں یہ عارضی ہیں اور ان کا جائز اور منصفانہ استعمال آخرت میں آپ کی بخشش اور ان سے غفلت کڑی سزا کا مستحق بنا ڈالے گا۔ میں حکام بالا سے پر زور مطالبہ کرتی ہوں کہ اپنی ذمے داری کو سمجھتے ہوئے جلد از جلد طیارہ حادثہ کی مکمل مربوط اور شفاف رپورٹ منظر عام پر لے کر آئیں۔
شہلا خضر، ناظم آباد
وبا کو ہلکا نہ لیں
ابھی اسپتالوں کی صورتحال یہ ہو رہی ہے۔ سرکاری وارڈ بھی بھرے ہوئے ہیں۔ روزانہ کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ عوام کی لاپروائی کی وجہ سے کمی ہوتی نظر نہیں آرہی۔ ابھی کوئی جذباتی فیصلہ نہ کریں۔ کام ہو رہا ہے الحمدللہ۔ رکا نہیں ہے۔
ہم جیسے لوگوں، ڈاکٹروں کے خاندانوں کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔ جو ہر مہینے میں ایک دو مرتبہ۔ آزمائش سے گزرتے ہیں۔ کبھی بچے قرنطینہ میں ہوتے ہیں اور کبھی بچوں کے باپ لمبی بیماری کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ شایدکچھ لوگ روز جیتے اور مرتے ہیں پروفیسر تک شکار ہورہے ہیں۔ کچھ زندگی کی بازی ہار گئے کچھ آخری لمحات میں واپس آئے۔ پلیز ابھی احتیاط رکھیں۔ وبا کو اتنا ہلکا نہ لیں۔ قوم کو کچھ زیادہ زور سے استغفار کی طرف مائل کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر رخسانہ جبیں