اداسیوں میں لپٹی ہوئی عید

430

عید خوشیوں کا نام ہے، ہر قوم اپنے عقیدے کے مطابق عید مناتی ہے۔ امت مسلمہ کے لیے سال میں دو عیدیں مقرر کی گئی ہیں، ایک رمضان المبارک کے اختتام پر عیدالفطر جسے اللہ کی طرف سے روزوں کا انعام بھی کہا جاتا ہے جن لوگوں نے رمضان کے پورے روزے راتوں کو قیام کیا اپنے شب و روز اللہ کے ذکر میں گزارے اور اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی کا اہتمام کیا تو شوال کا چاند ان کے لیے خوشیوں کا پیغام لے کر طلوع ہوا اور وہ عیدالفطر کے حق دار قرار پائے۔ دوسری عید جو حج کے اختتام پر سنت ابراہمی کی پیروی میں جانوروں کی قربانی دے کر منائی جاتی ہے اور جسے عیدالاضحی یا بقرا عید کہتے ہیں۔ ان دو عیدوں کے علاوہ مسلمان اپنے علاقوں اور ملکوں میں خوشی کے اور بھی کئی دن مناتے ہیں لیکن ان کی نوعیت مقامی ہے اور ان کی کوئی مذہبی حیثیت نہیں ہے۔ اب کی دفعہ عیدالفطر پر دکھ اور اداسیوں کا سایہ تھا پوری دنیا میں یہ عید اس حال میں منائی گئی کہ کورونا وائرس نے اسے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا تمام مسلمان ممالک میں وہ روایتی جوش و خروش مفقود تھا جو اس موقع پر ہر سال پایا جاتا ہے اب کی دفعہ حرمین شریفین کی رونقیں بھی کورونا کی نذر ہوگئی تھیں، نہ افطاری کے روایتی دسترخوان تھے، نہ معتکفین تھے، نہ طواف کعبہ کرنے والوں کا ہجوم تھا، ہر سال حرم کی حدود عمرہ زائرین سے بھر جاتی تھیں لیکن اس سال حرم میں رمضان اس حال میں گزرا کہ ہر طرف اُداسی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے، مستقل عملے اور چند گنے چنے افراد کے سوا کسی کو حدود حرم میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی، نماز عید کے موقع پر بھی یہ ویرانی برقرار رہی۔ پاکستان کا حال تو اس اعتبار سے زیادہ بُرا تھا کہ عید سے دو دن پہلے طیارے کا دلخراش سانحہ رونما ہوگیا جس میں سو کے قریب مسافر اور عملے کے فراد جان سے جاتے رہے۔ یہ سب اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید منانے آرہے تھے کہ موت نے انہیں راستے ہی میں اُچک لیا۔ اس سانحے نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ پوری قوم کو اُداس کردیا اور عید کی خوشیاں مانند پڑ گئیں۔ اس کے علاوہ کورونا کی افتاد الگ تھی جو لوگوں کو عید کے دن ملنے جلنے سے روک رہی تھی، عید کے دن گلے ملنا اور ایک دوسرے کو عید کی مبارک باد دینا ہماری تہذیب کا حصہ ہے اور اس کا آغاز نماز عید پڑھتے ہی ہوجاتا ہے۔ سب سے پہلے تو نمازی امام صاحب پر یلغار کرتے ہیں پھر اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اب کی دفعہ ہم نے دیکھا کہ امام صاحب نے اپنے خطبے ہی میں اعلان کردیا تھا کہ کورونا سے بچنے کے لیے نمازی ایک دوسرے کے ساتھ مصافحے سے اجتناب کریں۔ یہ اعلان کرنے کے بعد امام صاحب تو بغلی دروازے سے نکل گئے اور مسجد کے ہال میں موجود لوگ ایک دوسرے کو کھینچ کھینچ کر گلے ملنے لگے۔ ہم نے ایک نوجوان کو روکا تو وہ کہنے لگا کہ امام صاحب نے گلے ملنے سے نہیں روکا انہوں نے ’’مصافحے‘‘ سے منع کیا ہے ایک دوست ہم سے یہ کہتے ہوئے ٹکرا گئے
جب گلے سے گلے مل گئے سارا گلہ جاتا رہا
بہرکیف لوگوں نے عید کے دن گلے نہ ملنے کی ہدایت کو کچھ زیادہ اہمیت نہ دی۔ ماضی میں عید کے موقع پر گلے ملنے کی خبر تو صدر اور وزیراعظم کی بنتی تھی اور ٹیلی ویژن پر دکھایا جاتا تھا کہ ہمارے حکمران عوام سے گلے مل رہے ہیں، اس موقع پر بعض معذور افراد کو وہیل چیئر پر ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس پہنچایا جاتا۔ صدر اور وزیراعظم ان معذوروں سے مل کر انہیں عید کی مبارک باد دیتے اور یہ تصویریں بڑے اہتمام سے ٹیلی کاسٹ اور شائع کی جاتی تھیں۔ اب کی دفعہ کورونا نے اس نمائشی اور منافقانہ حرکت پر بھی پابندی لگادی تھی اور ہمارے حکمران نہ عوام سے گلے مل سکے نہ معذوروں کے سر پہ دست شفقت رکھ سکے۔ میڈیا نے اب کی دفعہ یہ بتانے سے بھی گریز کیا کہ ہمارا کون سا لیڈر کہاں عید منائے گا۔ ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم ہوسکا کہ ہمارے حکمرانوں اور لیڈروں نے کہاں نماز عید پڑھی، پڑھی بھی یا کورونا کے ڈر سے گھروں میں بند رہے۔ البتہ عید سے تین دن پہلے لاک ڈائون کے خاتمے کے بعد عورتوں، مردوں اور بچوں نے عید کی خریداری کے لیے بازروں پر یلغار کرکے ثابت کردیا کہ وہ کورونا سے نہیں ڈرتے وہ ان کی جان تو لے سکتا ہے، عید کی خوشی ان سے نہیں چھین سکتا، پھر جان لینا بھی اس کے بس میں نہیں ہے۔ جان جس کی امانت ہے وہی اس امانت کو واپس لینے کا حق رکھتا ہے۔
رویت ہلال کا تنازع صرف رمضان المبارک اور عید الفطر کے موقع پر رونما ہوتا ہے باقی مہینوں کے چاند معمول کے مطابق نکلتے ہیں اور کوئی ان پر انگلی اٹھانے کا تکلف نہیں کرتا۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی اس لیے قائم کی گئی تھی کہ چاند دیکھنے پر اختلاف پیدا نہ ہو اور رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے مطابق پوری قوم ایک ہی دن رمضان کا آغاز کردے اور ایک ہی دن عید منائے، لیکن رویت ہلال کمیٹی کے قیام کے باوجود یہ تنازع ختم نہ ہوسکا اور پشاور کے ایک مفتی صاحب ہر سال کمیٹی کے فیصلے کو چیلنج کرتے رہے۔ اب سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر رویت ہلال کمیٹی کے حریف بن گئے ہیں۔ وہ کمیٹی کا فیصلہ آنے سے کئی دن پہلے ہی چاند کی رویت کا اعلان کردیتے ہیں، وہ اس بات پر بھی مُصر ہیں کہ رویت ہلال کمیٹی کو ختم کردیا جائے اور چاند دیکھنے کے لیے سائنسی معلومات پر انحصار کیا جائے۔
وزیر موصوف انسانی آنکھ سے چاند دیکھنے کو ضروری نہیں سمجھتے لیکن شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ چاند دیکھ کر اس کی گواہی دیں اور اس گواہی پر عمل کیا جائے۔ وزیر موصوف نے اس سال بھی یہ حرکت کی اور رویت ہلال کا کئی روز پہلے اعلان کرکے کمیٹی کے فیصلے کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔ بہرکیف کمیٹی نے بھی شرعی شہادتوں کی بنیاد پر وہی فیصلہ دیا جس کا اعلان وزیر صاحب پہلے کرچکے تھے حالاں کہ وہ اس کے مجاز نہ تھے۔ ہمارے ہاں اداروں کو متنازع بنانے کا کام بڑی مستعدی سے ہورہا ہے، اب رویت ہلال کمیٹی بھی راڈار پر آگئی ہے۔ اس حریفانہ کشمکش کے باوجود اداسیوں میں لپٹی ہوئی عید گزر ہی گئی۔