عثمان بزدار کا کارنامہ

233

عوام کو تو بار بار تاکید کی جا رہی ہے کہ کورونا وائرس سے بچنے کے لیے سماجی فاصلے برقرار رکھیں اور ماسک کا استعمال کریں لیکن حکمران طبقہ خود اس سے بے نیاز ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ پنجاب اپنے آبائی علاقے ڈیرہ غازی خان گئے اور کئی تقریبات میں شرکت کی لیکن انہوں نے کہیں بھی احتیاطی تدابیر کو ملحوظ نہیں رکھا۔ جناب عثمان بزدار نے ڈیرہ غازی خان میں ایک اسپتال کا سنگ بنیاد بھی رکھا جس کا نام اپنے والد سردار فتح محمد کے نام پر رکھا۔ لیکن ان کے والد علاقے کی نہ تو کوئی نمایاں شخصیت تھے اور نہ ہی انہوں نے کوئی ایسا کارنامہ سر انجام دیا جس کی وجہ سے اسپتال کو ان سے منسوب کیا گیا۔ یہ اسپتال عوام کے پیسوں سے بن رہا ہے۔ اگر عثمان بزدار یا ان کے والد کی رقم سے یہ اسپتال بنتا تو انہیں یہ نام رکھنے کا حق تھا بصورت دیگر یہ بد دیانتی ہے۔ عمران خان نے اپنی والدہ کے نام پر اسپتال قائم کیا تو اس کے لیے رقم خود فراہم کی۔ لیکن ان کے وسیم اکرم پلس نے حلوائی کی دکان پر فاتحہ کا اہتمام کیا۔ سرکاری عمارات کے نام قومی ہیروز کے نام پر رکھے جاتے ہیں، باپ دادا کے نام پر نہیں۔ ان کے علاقے میں کوئی تو ایسی شخصیت ہوگی جس کا نام استعمال کیا جاسکتا تھا۔ عثمان بزدار فوری طور پر اسپتال کا نام بدلیں اور اعتراضات کو دعوت نہ دیں۔