لاک ڈاون کے انڈے بچے

495

ظفر عالم طلعت
کورونا وائرس کی یوں تو بہت سی قسمیں ہیں۔ مگر اس وقت دنیا پر جس کورونا کی یلغار ہے وہ ہے COVID-19 یعنی 2019 کا کورونا وائرس مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک بہت ہی حسین سی مماثلت کورونا اور اس کے نتیجے میں لگنے والے لاک ڈاون میں پائی جاتی ہے۔ جتنی تیزی سے کورونا پھیلا ہے اس سے کہیں زیادہ تیزی سے لاک ڈاون پھیلا ہے۔ اس کورونا نے اتنے انڈے بچے نہیں دیے ہوںگے جتنے لاک ڈاون نے دے دیے ہیں۔۔۔ کورونا اور اس کی اقسام پر تو بہت بحث مباحثہ اور تحقیق ہوچکی ہے اس لیے ہم آج لاک ڈاون کی اقسام پر بات کریں گے۔۔۔
سخت لاک ڈاون۔ نرم لاک ڈاون۔ اسمارٹ لاک ڈاون۔ ہینڈسم لاک ڈاون۔ جزوی لاک ڈاون۔ مکمل لاک ڈاون۔ ایس او پی لاک ڈاون۔ بغیر ایس او پی لاک ڈاون۔ آن لائن لاک ڈاون۔ آف لائن لاک ڈاون۔ مبہم لاک ڈاون۔ واضح لاک ڈاون۔ سندھی لاک ڈاون۔ پنجابی لاک ڈاون۔ صوبائی لاک ڈاون۔ وفاقی لاک ڈاون۔ سنی لاک ڈاون۔ شیعہ لاک ڈاون۔ اب ہم باری باری تمام اقسام پر گفتگو کریں گے۔
(1) سخت لاک ڈاون۔۔۔ نرم لاک ڈاون
سختی غریبوں پر۔۔۔ نرمی امیروں پر۔ بھتا غریبوں سے۔۔۔ سلامی حکمرانوں کو۔
(2) اسمارٹ لاک ڈاون۔۔ ہینڈسم لاک ڈاون
اسمارٹ لاک ڈاون کچی آبادیوں پر۔۔ ہینڈسم لاک ڈاون پوش علاقوں پر۔۔
(3) جزوی لاک ڈاون۔۔۔ مکمل لاک ڈاون۔
جزوی لاک ڈاون میں ہر شخص کو ایک لسٹ رکھنی پڑتی ہے کہ کیا کھلا ہے اور کیا بند ہے۔۔ مکمل لاک ڈاون میں کم از کم آپ کو دماغ پر زور نہیں ڈالنا پڑتا کہ کیا کھلا ہے اور کیا بند ہے۔ آپ کو آسانی ہے کہ سب کچھ بند ہے ماسوائے میڈیکل اسٹور اور اشیائے خور و نوش کے۔
(4) ایس او پی لاک ڈاون۔۔ بغیر ایس او پی لاک ڈاون۔۔
ایس او پی لاک ڈاون۔۔ جس میں بیوروکریسی ایسی ایسی شرائط رکھتی ہے کہ جس کا پورا ہونا نا ممکن ہوتا ہے۔ بلکہ اکثر شرائط ایک دوسرے کی ضد ہوتی ہیں۔۔ لہٰذا جوڑ توڑ میں آسانی رہتی ہے اور عوام اور اداروں کا کام خوش اسلوبی سے چلتا رہتا ہے۔ بغیر ایس او پی لاک ڈاون کا ایک فائدہ تو ہے کہ لوگ بغیر کسی خلجان کے کاروبار کر سکتے ہیں۔۔۔
(5) آن لائن لاک ڈاون۔۔ آف لائن لاک ڈاون۔
آن لائن لاک ڈاون میں ایک عدد کمپیوٹر یا موبائل کے ساتھ کسی نہ کسی اپلی کیشن کا استعمال ضروری ہے۔ چونکہ اکثریت اس سے نابلد ہے تو لوگ خود بخود آف لائن لاک ڈاون کی طرف چلے جاتے ہیں۔ نتیجہ ظاہر ہے۔۔۔ کسٹمر موبائل سے دوکاندار کو فون کرتا ہے کہ شٹر اٹھائو میں باہر ہی کھڑا ہوں۔ دوکاندار شٹر اٹھا کر کسٹمر کو دعوت دیتا ہے کہ اندر آجائیں۔ جوں ہی کسٹمر اندر آتا ہے ڈرامے کے سین کی طرح فوراً شٹر گر جاتا ہے۔ اب اللہ دے اور بندہ لے۔ اندر کیا ہوتا ہے یہ تو خدا ہی جانے۔
پردے میں رہنے دو۔۔پردہ نہ اٹھائو۔
پردہ جو اٹھ گیا تو بھید کھل جائے گا۔
اللہ میری توبہ۔۔ خاص طور پر خواتین کی دوکانوں پر۔۔۔ اس لیے ہمارا مشورہ ہے کہ خواتین اور شرفاء اس لاک ڈاون سے پرہیز ہی کریں تو بہتر ہے۔ کیونکہ کورونا تو چلا جائے گا مگر عزت آنی جانی شے نہیں ہے۔
(6) مبہم لاک ڈاون۔۔ واضح لاک ڈاون
مبہم لاک ڈاون وہ ہے جو صرف ہمارے پیارے حکمرانوں، وزیروں، مشیروں، معاون خصوصی اور بیوروکریسی کو سمجھ میں آتا ہے۔ رہ گئے عوام تو ان کی خیر ہے عوام بے چارے تو عزت بچائے اور دم دبائے گھروں میں بیٹھے ہیں اور واضح لاک ڈاون پر گزارہ کر رہے ہیں۔۔۔
(7) سندھی لاک ڈاون۔ پنجابی لاک ڈاون
سندھی لاک ڈاون وہ ہے جو سندھ کے حکمرانوں کو سوٹ کرتا ہے۔۔ اور پنجابی لاک ڈاون وہ ہے جو وفاق کو سوٹ کرتا ہے۔ باقی عوام جائیں بھاڑ میں۔۔ ان کی کب کسی نے پروا کی ہے۔
(8) صوبائی لاک ڈاون۔۔ وفاقی لاک ڈاون۔
اس لاک ڈاون کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ٹرین میں دو انجن لگے ہوں۔ ایک آگے اور ایک پیچھے اور دونوں مخالف سمت میں چلنے کی کوشش کررہے ہوں۔ ظاہر ہے ایسی ٹرین کبھی آگے بڑھتی ہے تو کبھی پیچھے سرکتی ہے۔ مگر حالات جوں کہ توں رہتے ہیں۔ یعنی اسٹیٹس کو برقرار رہتا ہے اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔
(9) سنی لاک ڈاون۔۔۔ شیعہ لاک ڈاون
جاتے جاتے ایک اور قسم منظر عام پر آئی ہے جو ہماری پیاری اور بھولی بھالی حکومت نے ایجاد کی ہے۔ سنی لاک ڈاون میں مساجد میں تالے۔ باجماعت نمازوں پر پابندی۔ تراویح اور جمعہ پر پابندی۔۔ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد۔ اماموں اور نمازیوں کی گرفتاریاں۔ ایف آئی آر اور لاٹھی چارج دجالی میڈیا میں مسجدوں پر تنقید کے تیر و نشتر۔۔۔ اس کے بر عکس شیعہ لاک ڈاون میں حسب معمول مجالس اور جلوسوں کا انعقاد اور پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے مکمل پروٹوکول۔۔ پورے شہر کو کنٹینروں سے بند کردیا تاکہ کورونا کے ممکنہ پھیلائو کو روکا جاسکے اور کورونا مجلس اور جلوسوں سے نکل کر باقی شہر کی اکثریتی آبادی کو متاثر نہ کرسکے۔۔ ہم حکومت کے اس انتہائی ذمے دارنہ اقدام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ جس کی وجہ سے پورا شہر کورونا سے بچ نکلا۔۔ شکریہ اگر جان کی امان پاوں تو کچھ عرض کروں۔۔۔
اب یہاں ہم اپنے شیعہ اور سنی بھائیوں سے اپیل کریں گے کہ۔۔ شیعہ حضرات نے ایسا کرکے خود اپنی ہی کمیونٹی کو کورونا کے خطرے سے دوچار کیا ہے۔ ایسے معاملات میں جذبات سے زیادہ عقل وفہم اور زمینی معروضی حالات کے تحت فیصلہ کرنا چاہیے۔ سنی حضرات سے بھی ہماری یہی گزارش ہے کہ کسی اور کی غلطی آپ کے لیے دلیل یا جواز نہیں بن جاتی۔ آپ کم از کم اپنی کمیونٹی کا خیال کریں۔۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم برائی کو برائی سے نہیں بلکہ اچھائی سے مٹاتے ہیں۔ ظاہر ہے اگر کہیں گندگی ہو تو آپ اس کو صاف اور پاک پانی سے ہی دھوتے ہو۔۔ گندے اور ناپاک پانی سے وہ گندگی کبھی صاف نہیں ہوسکتی بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوگا۔۔۔ یہاں کورونا کی ذہانت۔ فطانت اور دور اندیشی کا ذکر نہ کروں تو زیادتی ہوگی۔ اور اب تو ہماری عدالتیں بھی اس کی معترف ہیں کہ۔۔۔ کورونا ماشاء اللہ اتنا ذہین اور فطین ہے کہ ساری دنیا کی ایجنسیاں اس کے سامنے پانی بھرتی ہیں۔ کورونا کو سب پتا ہے کہ اسے کب کہاں اور کیسے حملہ آور ہونا ہے۔ اور کون کون سے علاقے شجر ممنوع ہیں۔۔ مثلاً۔۔
(1) کورونا کو پتا ہے کہ صرف مسجدوں اور نمازیوں کو نشانہ بنانا ہے لیکن مجلسیں اور جلوس دیکھ کر سانپ سونگھ جاتاہے۔ اور خود کا جلوس نکل جاتا ہے۔
(2) کورونا کو پتا ہے کہ شام 5 بجے سے صبح 8 بجے تک اسے آزادی ہے جو چاہے کرے۔۔ مگر صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بندش ہے۔۔ خبردار جو کچھ کیا۔
(3) ہفتے میں چار دن پیر منگل بدھ جمعرات بندش ہے۔۔ لیکن جمعہ ہفتہ اتوار کورونا آزاد ہے جو چاہے کرتا پھرے۔ پھر بھی اتنا سمجھدار ہے کہ حجام کی دوکانوں کے قریب نہیں جاتا کہ مبادہ خود اس کی ہی حجامت نہ ہوجائے۔
اب تو ہمارا یہ حال ہوگیا ہے کہ گھر سے نکلتے ہیں تو یہ سوچ سوچ کر سر چکرانا شروع ہوجاتا کہ نامعلوم اس وقت کون سا لاک ڈاون چل رہا ہے اور ہم کسی خلاف ورزی کے مرتکب تو نہیں ہورہے۔ اور یوں وہ کام ہی بھول جاتے ہیں کہ جس کے لیے باہر نکلے تھے۔۔ نتیجتاً فوراً ہی دوبارہ اپنے گوشہ عافیت میں پناہ لے لیتے ہیں کہ کہیں دھر نہ لیے جائیں۔۔۔ اب تو کورونا کو بھی شاپنگ مالز کا پتا چل گیا ہے۔۔ کہ ہماری عدالتوں نے بھی شاپنگ مالز کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔۔
اللہ اللہ کر بھیا۔۔ اللہ ہی سے ڈر بھیا