المناک حادثہ، تحقیقات ہو سکے گی؟

275

جمعہ کو کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کی تباہی ہر لحاظ سے المناک ہے ۔ اس خوفناک حادثے میں صرف دو افراد ہی خوش قسمت تھے جنہیں موت چھو کر گزر گئی ۔ جس آبادی میں یہ طیارہ گرا ، وہ بھی گنجان آباد ہے ، تاہم یہ بھی اللہ کی رحمت رہی کہ نقصان صرف املاک کا ہوا جبکہ علاقے میں رہنے والوں کی قیمتی جانیں محفوظ رہیں ۔ حادثہ ہونے سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ حادثہ ہوا کیوں ۔ وطن عزیز کا یہ عجیب دستور ہے کہ چاہے ٹرین کا حادثہ ہو یا ہوائی جہاز کا ، یا کوئی اور سانحہ ہو ، کبھی بھی کسی سانحے کی درست اور مکمل تحقیقات نہیں کی گئیں کہ اس کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جاسکے اور آئندہ کے لیے اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہ ہوسکے ۔ اول تو اس قسم کی تحقیقات کبھی مکمل ہی نہیں ہوتیں اور اگر کوئی لولی لنگڑی رپورٹ تیار ہو بھی جائے تو اسے عوام کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا ۔ سقوط مشرقی پاکستان سے بڑا اس ملک کے ساتھ اور کون سا سانحہ ہوسکتا ہے مگر حمود الرحمٰن کمیشن رپورٹ آج تک عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی ۔ اسی طرح ضیاء الحق کا طیارہ حادثہ ، فضائیہ کے سربراہ ائر مارشل مصحف میر کے طیارے کے حادثے سمیت سیکڑوں اہم واقعات ہیں جنہوں نے اس ملک اور قوم دونوں پر گہرے اثرات مرتب کیے مگر کسی کی رپورٹ آج تک سامنے نہیں آسکی ۔ کراچی میں 12 مئی کے واقعات سب کے سامنے ہیں ، بلدیہ کالونی کی فیکٹری میں آگ لگا کر ڈھائی سو سے زاید افراد کو زندہ جلانے کا واقعہ ، نشتر پارک میں عید میلاد النبی کے جلسے میں دھماکا ، سانحہ ساہیوال وغیرہ ایسے واقعات ہیں ، جن کے مجرموں سے سب ہی آگاہ ہیں مگر نہ تو ان کی رپورٹیں کبھی سامنے آئیں اور نہ ہی ان سانحات کے مجرموں کو پکڑنے کی کوئی تگ و دو کی گئی ۔ کراچی میں ہی میر مرتضیٰ بھٹو کو اسٹیبلشمنٹ نے گھیر کر مار دیا مگر آج تک یہی پتا نہیں چل سکا کہ مرتضیٰ بھٹو کو مارنے کے احکامات جاری کس نے کیے تھے ۔ کراچی کے علاقے ماڈل کالونی میں طیارے کے گرنے کا واقعہ بھی اسی طرح شروع میں گرم رہے گا اور پھر بتدریج سرد خانے کی نذر ہوجائے گا ۔ اس سے قبل حویلیاں کے مقام پر چترال سے آنے والا پی آئی اے کا اے ٹی آر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا ۔ اس واقعے کو ساڑھے تین برس گزر گئے ہیں مگر ابھی تک اس واقعے کی رپورٹ نہ تو منظر عام پر لائی گئی اور نہ ہی اس کا کہیں پر کوئی ذکر ہے ۔ طیارے کے گرنے کے تین برس کے بعد اس کی عبوری رپورٹ حکومت کی خدمت میں کوئی چھ ماہ قبل پیش کی گئی ، حکومت نے اس عبوری رپورٹ کو بھی دبایا ہوا ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کو کسی بھی سانحے کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے سے کتنی دلچسپی ہے ۔ کراچی میں پی آئی اے کے گرنے والے طیارے کی تحقیقات ہونے سے قبل ہی اس کی تحقیقاتی ٹیم پر تحفظات آنے شروع ہوگئے ہیں ۔ کیا تحقیقاتی کمیٹی کے افسران اتنے اہل ہیں کہ وہ ایک بڑے مسافر بردار طیارے کے بارے میں تحقیق کرسکیں ۔ تحقیقاتی کمیٹی میں سارے کے سارے ہی پاک فضائیہ کے حاضر سروس افسران ہیں ۔ ان افسران کو لڑاکا طیاروں کا تو تجربہ ہوسکتا ہے مگر انہیں مسافر بردار طیاروں کا کچھ اتا پتا نہیں ہے تو پھر وہ کس طرح سے اس کی موثر تحقیقات کرسکیں گے ۔ تحقیقاتی ٹیم کی غیر جانبداری پر بھی سوالات کیے جارہے ہیں ۔ پی آئی اے کے موجودہ سربراہ حال میں ہی پاک فضائیہ کے دوسرے بلند ترین عہدے وائس چیف آف ائر اسٹاف کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیںجبکہ پی آئی اے میں فوج اور فضائیہ کے حاضر سروس افسران کی فوج ظفر موج موجود ہے تو ایسے حالات میں کس طرح سے پاک فضائیہ کے افسران پر مشتمل ٹیم غیر جانبدارانہ تحقیقات کرسکے گی ۔ سب سے اہم بات تحقیقاتی رپورٹ کب پیش کی جائے گی ۔ ہر مرتبہ کی طرح اس مرتبہ بھی احکامات جاری کردیے گئے ہیں کہ ایک ماہ میں رپورٹ پیش کردی جائے مگر اے ٹی آرطیارے کا سانحہ گواہ ہے کہ 2016 میں رونما ہونے والے واقعے کی رپورٹ اب تک پیش نہیں کئی گئی ہے ۔ اتنی تاخیر سے رپورٹ پیش کرنے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ سارے ہی شواہد ختم ہوچکے ہوتے ہیں اور بہ دل نخواستہ تحقیقاتی رپورٹ کو تسلیم کرنا ہی پڑتا ہے ، چاہے اس میں کتنی ہی خامیاں کیوں نہ ہوں ۔ اصولی طور پر تو اتنی تاخیر سے رپورٹ پیش کرنے پر سب سے پہلے تحقیقاتی ٹیم کو ہی سزا دینی چاہیے ۔ ملک کی صورتحال کو دیکھ کر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سارے ہی شریک مجرم ہوں ۔زمانے پہلے کی بات ہے کہ اگر کسی کو غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنا ہوتا تھا تو وہ عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتا تھا مگر اب تو یہ آپشن بھی ختم ہوگیا ہے ۔ عدالتی کمیشن کی صورتحال کو بارہ مئی کے سانحہ کراچی اور سانحہ ساہیوال کی روشنی میں دیکھا اور جانچا سکتا ہے ۔ مشہور کہاوت ہے کہ کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں ۔ پاکستان کے حقیقی اور مجازی حکام ، عدلیہ کے سربراہ اور سیاستداں سب اس کہاوت کی روشنی میں صورتحال کو دیکھ لیں کہ کیا صورتحال ہے ۔ اب تو ظلم ساری حدیں پار کرچکا ہے ۔اب کس چیز کا انتظار ہے ۔ کیا حقیقی اور مجازی حکام اب اس عذاب الہٰی کے منتظر ہیں جس کی وعید سنادی گئی ہے ۔