ریسکیو آپریشن مکمل‘پالپا کا تحقیقات پر تحفظات کا اظہا

274

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی میں پی آئی اے کے کریش ہونے والے طیارے کا ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے جس کے بعد اب طیارے کے ملبے کو گرنے کے مقام سے ہٹانے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ طیارے کے گرنے کے مقام اور طیارے کے ملبے سے 97 لاشیں نکالی گئی ہیں جو کہ تمام کی تمام جہاز کے مسافروں اور عملے کی ہیں ۔ جناح اسپتال میں 66 لاشیں لائی گئیں جبکہ 31 لاشیں سول اسپتال پہنچائی گئیں ۔ جناح اسپتال منتقل ہونے والی لاشوں میں 20 خواتین، 43 مرد اور 3 بچے شامل ہیں جبکہ سول اسپتال منتقل کی جانے والی لاشوں میں 6 خواتین اور 25 مرد ہیں۔محکمہ صحت کے مطابق تمام لاشوں کا جناح اسپتال میں پوسٹ مارٹم کیا گیا اور23 لاشوں کی شناخت کی گئی جب کہ باقی لاشوں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ سول اسپتال آنے والی لاشوں میںسے صرف 3 لاشوں کی شناخت ہوئی جب کہ 28 لاشوں کی شناخت نہیں ہو پائی ہے۔ڈی این اے کے لیے نمونے لینے کے بعداب لاشوں کو سول اور جناح اسپتال سے ایدھی سردخانہ سہراب گوٹھ اور چھیپا سردخانہ گورا قبرستان میں منتقل کردیا گیا ہے۔ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لاہور سے فرانزک لیبارٹری کی 3 ٹیمیں ضروری آلات کے ساتھ کراچی پہنچ گئی ہیں ۔19لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں ہیں۔ واضح رہے کہ بدقسمت جہاز کے مسافروں میں سے صرف 2 مسافر ہی رہے اور وہ زندہ بچ گئے جبکہ بقیہ تمام مسافر اور عملے کے ارکان اس حادثے میں جاں بحق ہوگئے ۔ نادرا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے زیادہ ترافراد کی لاشیں جھلسی ہوئی ہیں جوناقابل شناخت ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ 3 جاں بحق افراد کے موقع پرانگوٹھوں کے نشان لیے گئے جس میں سے 2 لاشوں کی نادرا نے شناخت کرلی ہے ۔ لاشوں کی شناخت کے لیے فوکل پرسن کی تعیناتی کی گئی ہے تاہم شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔ایڈیشنل آئی جی کراچی غلام نبی میمن کے مطابق ایس ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی جنید احمد ٹیم کی سربراہی کریں گے جبکہ ڈی ایس پی رستم سول اسپتال میںاور ڈی ایس پی آفتاب عالم جناح اسپتال میں تعینات ہوں گے۔وفاقی حکومت کی جانب سے طیارہ حادثے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی 4 رکنی ٹیم نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ائرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ (اے اے آئی بی) کے صدر ائرکموڈور عثمان غنی کررہے ہیں۔تحقیقاتی ٹیم نے طیارہ گرنے کے مقام کا دورہ کیا اور شواہد جمع کیے جبکہ عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔ طیارے کا بلیک باکس انویسٹی گیشن ٹیم کے سپرد کر دیا گیا ہے جب کہ وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ طیارے کے گرنے سے تباہ ہونے والی املاک کے نقصانات کا بھی ازالہ کیاجائے گا۔علاوہ ازیں ملک میں پائلٹوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان ائرلائنز پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے جمعہ کو کراچی میں تباہ ہونے والے پی آئی اے کے طیارے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ کمیٹی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی آئی بی کے بجائے کوئی قابل بورڈ تشکیل دیا جائے۔پالپا کے جنرل سیکرٹری کیپٹن عمران ناریجو نے کہا کہ اے آئی آئی بی کے ماضی کے کردار اور اس کے ارکان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اس سے کوئی امید نہیں ہے۔کیپٹن عمران ناریجو نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات میں پالپا کے علاوہ انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (اکاؤ) اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف ائرلائن پائلٹس ایسوسی ایشنز کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے واقعات کی روشنی میں پالپا کی شمولیت کے بغیر بھی حادثے کی انکوائری قبول نہیں کی جائے گی تاہم انہوں نے کہا کہ پائلٹ ریسکیو پروازیں جاری رکھیں گے۔دوسری جانب پی آئی اے کے کراچی میں کریش ہونے والے جہاز کی تباہی کی وجوہات جاننے کے لیے مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں۔سول ایوی ایشن اتھارٹی کے رن وے انسپیکشن کے مطابق بدقسمت جہاز کے کپتان نے جہاز کے کریش ہونے سے قبل لینڈنگ کی کوشش کی۔ذرائع کے مطابق جہاز کے انجنوں میں معمولی خرابی تھی تاہم یہ ایسی خرابی نہیں تھی جس سے جہاز کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ۔ مذکورہ جہاز کے کراچی میں اترنے کے بعد اس کی ضروری مرمت کی جانی تھی ۔ کنٹرول ٹاور کے مطابق جہاز کی بلندی 7 ہزار فٹ تھی،اسے5 ہزار فٹ یا کم پر آنے کا کہاگیا تو پائلٹ نے نیچے آنے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ comfortable ہیں ۔ جہاز کے انجن میں خرابی کے باعث بار بار وارننگ دینے پر کپتان نے مین وارننگ سسٹم آف کردیا تھا جس کے باعث جب اس نے پہلی بار لینڈنگ کی کوشش کی تھی تو اسے علم ہی نہیں ہوسکا کہ جہاز کا لینڈنگ گیئر کام ہی نہیں کررہا ہے اور اس کے پہیے نہیں کھل سکے ہیں تاہم جیسے ہی طیارے نے رن وے کو چھوا تو کپتان کو خرابی محسوس ہوئی اور اس نے جہاز کو دوبارہ سے فضا میں بلند کرلیا ۔ لینڈنگ کی پہلی کوشش کے دوران جہاز کے انجن3 مرتبہ رن وے سے ٹکرائے اور جہاز کے انجن سے چنگاریاں بھی نکلیں ۔ جہاز کے رن وے سے ٹکرانے کے نشانات بھی رن وے پر موجود ہیں ۔ جہاز کے انجن رن وے سے ٹکرانے اوررگڑ کی وجہ سے چنگاریاں نکلنے پر پھر کپتان جہاز کو گو راؤنڈ (دوبارہ چکر) کرایا گیا۔انجن کے ٹکرانے کے نشانات رن وے پر موجود ہیں اور انجن کی ڈیبریز بھی رن وے سے مل گئی ہیں ۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ہوسکتا ہے کہ جہاز کے انجن کے رن وے سے ٹکرانے کی وجہ سے اس کا فیول پائپ لیک ہوگیا ہو ، جس کی وجہ سے انجنوں کو ایندھن کی بھرپور سپلائی متاثر ہوئی ہو اور انجن کے کام کی صلاحیت متاثر ہوئی ہو ۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے رن وے انسپکشن کی رپورٹ کے مطابق کراچی ائرپورٹ کے تقریباً 10ہزار فٹ طویل رن وے پر 6 تا 7 ہزار فٹ پر دونوں انجن کے نشانات ہیں۔ طیارے کے بائیں انجن نے رن وے پر 4500 فٹ آگے جاکر ٹچ کیا، پھر 5500فٹ دور جاکر دائیں انجن نے بھی زمین کو چھوا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق طیارے کے بیلی نے رن وے کو ٹچ نہیں کیا جس کے باعث کپتان نے طیارے کو دوبارہ ٹیک آف کرلیا، آخری مرتبہ طیارہ ٹیک آف ہونے کے بعد طیارے کی بلندی 18 سو فٹ سے زیادہ نہیں ہوپائی تھی جس کی وجہ سے یہ لینڈنگ کی کوشش میں آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اس پر زور دیا کہ کپتان نے لینڈنگ کے وقت ائر ٹریفک کنٹرولر کو کسی غیر معمولی حالت کی اطلاع نہیں دی۔واضح رہے کہ ایمرجنسی لینڈنگ کی صورت میں رن وے پر فوم بچھایا جاتا ہے مگر کپتان کی لینڈنگ کی پہلی کوشش سے دوسری کوشش کے درمیان بھی رن وے پر فوم بھی نہیں بچھایا گیا۔ پی آئی اے کے انجینئرنگ اینڈ مینٹی نینس ڈپارٹمنٹ نے حادثے کا شکار ہونے والے مسافر طیارے کی تیکنیکی معلومات سے متعلق سمری جاری کردی ہے جس کے مطابق طیارے کو رواں ماہ 21 مارچ کو آخری مرتبہ چیک کیا گیا تھا اور تباہ ہونے والے طیارے نے حادثے سے ایک دن قبل اڑان بھری تھی اور مسقط میں پھنسے پاکستانیوں کو لاہور واپس لایا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طیارے کے انجن، لینڈنگ گیئر یا ایئر کرافٹ سسٹم میں کوئی خرابی نہیں تھی، دونوں انجنوں کی حالت اطمینان بخش تھی اور واقعے سے قبل ان کی معمول کی مینٹی نینس چیک کی گئی تھی۔