سعودی عرب نے اسرائیل کا منصوبہ مسترد کردیا

622

ریاض: سعودی عرب نے اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارےیا (غرب اردن) کو ہتھیانے کا منصوبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین عوام کی اُمنگوں کے مطابق حل کیا جائے اور ایسی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام عمل میں لایا جائے جس کا دارالحکومت “مشرقی القدس” ہو۔

سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے کسی بھی قسم کی یک طرفہ کارروائی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کےمنافی ہے اورہم ایسےکسی بھی اقدام کی مذمت کرتے ہیں ،جس سے خطے میں سلامتی اور استحکام کے حصول کیلئے امن عمل کی بحالی کے امکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہو۔

مزید پڑھئیے: غرب اردن پر قبضے کی کوشش، یورپ کی مخالفت

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق وزارت خارجہ نے سعودی عرب کی جانب سے فلسطینی عوام اور مشرقی بیت المقدس دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی غیرمتزلزل حمایت کےعزم کا اعادہ کیا ہے۔

سعودی عرب نے بین الاقوامی قوانین کے مطابق مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کیلئے  کوششوں کی حمایت کا بھی اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق تنازع کا جامع اور منصفانہ حل تلاش کیا جائے۔

مزید پڑھئیے: غرب اردن پر قبضہ: مسیحییوں کی تشویش

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کاکہنا تھا کہ وہ نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی یہودی بستیوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع وادیِ اردن میں اسرائیلی قانون کا اطلاق کرسکتے ہیں۔

اس سے قبل بھی اسرائیلی وزیراعظم غربِ اردن میں فلسطینی اراضی پر قائم یہودی بستیوں اور دوسرے علاقوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے اعلان کرتے رہے ہیں لیکن انھیں اس پر عمل درآمد کی ہمت نہیں ہوئی۔