کورونا اور اندھیرا

208

سندھ پولیس خصوصاً کراچی میں کورونا کے خلاف جنگ میں بڑی سرگرم ہے اور جگہ جگہ ناکے لگا رکھے ہیں۔ ان ناکوں کو بڑے اہتمام سے تنگ کیا جاتا ہے تاکہ وہاں سے گزرنے والے زیادہ سے زیادہ تنگ ہو جائیں۔ لیکن یہ ناکے رات کے اوقات میں زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں جب بلدیہ کراچی اور کے الیکٹرک کی ملی بھگت سے سارے شہر کی سڑکوں پر لائٹیں بند کر دی جاتی ہیں۔ یہ رکاوٹیں اور حکومت سندھ کے پالے ہوئے اہلکار جگہ جگہ سڑکوں پر ہوتے ہیں۔ یہ حادثات کا سبب بھی بنتے ہیں۔ بعض رکاوٹیں ایسی ہیں کہ ان کا کوئی جواز سمجھ سے بالا ہے۔ راشد منہاس روڈ سے شاہراہ فیصل کی طرف مڑتے ہوئے رکاوٹیں لگا کر سڑک بند کر دی گئی ہے اور چند قدم آگے جا کر بائیں طرف مڑنے کے لیے اجازت ہے۔ یہ کوئی سو گز کا علاقہ ہے جو بند رہتا ہے۔ اسی طرح ایمپریس مارکیٹ کے سامنے سے گاڑیاں رات کو نہیں گزر سکتیں۔ لوگوں کو دائیں بائیں اندھیری گلیوں سے گزر کر مزار قائد کی طرف یا ریگل کی طرف جانا پڑتا ہے۔ صدر سے شاہراہ فیصل جانے والی سڑک آواری ٹاورز تک رکاوٹیں لگا کر بند کر دی گئی ہے اس سے کیا ہوگا۔ پھر یہ فرض شناس پولیس ان ناکوں کو چھوڑ کر رات گئے غائب ہوتی ہے۔ یہ صرف دو تین مثالیں ہیں۔ سارے شہر میں یہ دو مصیبتیں عوام کے لیے حکومت سندھ نے پیدا کر رکھی ہیں جن کا کوئی جواز نہیں۔ اندھیرے اور بے مقصد رکاوٹوں سے کورونا کا کچھ نہیں بگڑتا۔ عوام کو ہی تنگ کیا جا رہا ہے۔