نقطہ نظر

145

کیا حقیقت میں کورونا شرونا کچھ_ نہیں؟
نوجوان اور بوڑھے دنوں میں ہماری آنکھوں کے سامنے بھلے چنگے سے مرحوم کا سفر کررہے ہیں۔ چھاتی کا ایکسرے صبح نارمل تو شام تک بالکل سفید یعنی پھیپھڑے بالکل فارغ۔ کہتے تھے کیا کبھی کورونا کا کوئی مریض اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے؟ میں کہتا ہوں نہ صرف دیکھا ہے بلکہ اپنے ہاتھوں سے بے ہوش کرکے، سانس کی نالی ڈال کر، سانس کی مشین پر بھی ڈالا ہے، اپنے ہاتھوں سے سی پی آر بھی کیے ہے اور اپنی آنکھوں کے سامنے کورونا کے مریضوں کو دنیا سے رخصت ہوتے بھی دیکھا ہے۔ سیالکوٹ میں، کورونا کے لیے مختص آئی سی یو کا غیر رسمی آغاز کردیا ہے۔ دو چار دن میں پوری کیپیسیٹی کے ساتھ آئی سو یو فعال ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ۔
پرسوں ایک نہایت محترم اور عزیز ڈاکٹر کے والد، چند دن نہایت تکلیف میں گزارنے کے بعد، میری آنکھوں کے سامنے کورونا سے چل بسے۔ کل انہی ڈاکٹر صاحب کے بڑے بھائی تیز بخار اور سانس کی تنگی کے ساتھ، میرے پاس داخل ہوئے ہیں۔ آج صبح صبح ایک ڈاکٹر صاحبہ کے والد کے بخار اور شدید سانس کی تنگی میں مبتلا ہونے کی اطلاع ملی ہے جو چند گھنٹے میں شاید آئی سی یو میں داخل ہوجائیں گے۔ معمر ڈاکٹرز خود بیمار ہو رہے ہیں۔ ینگ ڈاکٹر اگر شدید بیماری سے بچ بھی جائیں، لیکن ڈاکٹرز کے بزرگ والدین سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔
صرف بوڑھے نہیں نوجوان، ادھیڑ عمر لوگ بھی شدید علیل ہوسکتے ہیں۔ اس وقت میرے پاس کورونا کے باعث وینٹی لیٹر پر ڈلنے والے ایک مریض کی عمر 26 سال کے قریب ہے۔ ایک اور 42 سالہ مریض سانس کی شدید تکلیف میں مبتلا ہے۔ سیالکوٹ کے میڈیکل اسپیشلسٹس سے فون پر یا ویسے بات ہوتی ہے۔ ایک ڈاکٹر صاحب نے کل بیس کے قریب مریض دیکھے ہیں جن کا ایکسرے بالکل سفید تھا۔ کورونا کے خلاف بات کرنے والوں سے صرف ایک سوال ضرور پوچھیں کہ کیا کسی ایسے اسپتال کا اندر سے چکر لگا کر دیکھا ہے جس میں کورونا کے مریض داخل ہوں؟ اگر سچ میں کورونا کو جھوٹ سمجھتے ہو، تو آؤ میرے آئی سی یو میں ایسے مریضوں کے بیچ پانچ منٹ کھڑے ہو کر دکھاؤ۔ اللہ تعالیٰ تمام مریضوں کو صحت عطا فرمائیں اور جلد از جلد اس وباء کو ہم سے اٹھا لیں۔
ڈاکٹر فہیدالحق
انچارج کورونا آئسولیشن آئی سی یو، سیالکوٹ