غرب اردن پر قبضہ: مسیحییوں کی تشویش

535

مسیحی دنیا کے رومن کیتھولک فرقے کے مرکز ویٹی کن سٹی نے اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے یا (غرب اردن) کے بڑے حصےکو ہتھیانے کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے اس اقدام سے امن مذاکرات کے امکانات معدوم ہوجائیں گے۔

فلسطینی مذاکرات کار نے ویٹی کن سٹی کے خارجہ پالیسی کے سربراہ آرچ بشپ پال رچرڈ گالگر سے ملاقات کی، جس کے بعد ویٹی کن نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کا احترام اور اقوام متحدہ کی قراردادیں ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔

مزید پڑھئیے: “غرب اردن پر قبضے کو پوری قوت سے روکیں گے”

اسرائیل کی نئی حکومت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغربی کنارے یا (غرب اردن) کے بڑے حصے اور وہاں قائم یہودی بستیوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں اور امریکا کے علاوہ عالمی برادری اور ادارے انھیں غیر قانونی ہی قراردیتے ہیں۔

مزید پڑھئیے: “اسرائیل، امریکا سےتمام معاہدے ختم”

ویٹی کن نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے لیکن ہمیں اس پر تشویش ہے ۔رومن کیتھولک کی شہری ریاست کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ براہ راست بات چیت کے ذریعے جلد کوئی حل تلاش کیا جاسکتا ہے تاکہ تینوں مذاہب کیلئے مقدس سرزمین میں امن کا قیام ممکن ہوسکے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی  نام نہاد “صدی کی امن ڈیل” کو فلسطینی پہلے ہی مسترد کرچکے ہیں  اور اس ڈیل اسرائیل اسرائیل نوازی سے تعبیر کرتے ہیں ۔

مزید پڑھئیے: اسرائیل غرب اردن میں توسیع سے باز رہے

واضح رہے کہ امریکی صدر کی “صدی کی امن ڈیل” کو فلسطینیوں کے علاوہ یورپی یونین اس  منصوبے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس منصوبے سے دو ریاستی حل کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہوجائے گا۔

یادرہے کہ نیتن یاہو نے رواں  ہفتے وزارت عظمیٰ کی حلف برداری سےقبل مقبوضہ مغربی کنارے یا (غرب اردن) میں واقع یہودی آبادکاروں کی بستیوں اور وادیِ اردن کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کیلئے یکم جولائی سے کابینہ میں بحث ومباحثہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔تاہم فلسطینی سرزمین کو ہتھیانے کے منصوبے پرعمل درآمد کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا۔