بھارتی پولیس نے ہندو کو مسلمان سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

355

مدھیا پردیش: بھارتی پولیس نے مسلم دشمنی اور عصبیت کی نئی مثال قائم کردی۔ ایک ہندو وکیل دیپک بندیل کو مسلمان سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے شہر بیتل میں پولیس نے ایک ہندو وکیل دیپک بندیل کو حلیے سے مسلمان سمجھ کر تشدد کا نشانہ بنادیا۔ متاثر ہ شخص کی شناخت کے بعد پولیس نے اُسے فوری طور پر ہسپتال پہنچایا۔
صحت یاب ہونے کے بعد وکیل نے پولیس کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کردی۔ سماعت کے دوران پولیس کا کہنا تھا کہ ہم سمجھے تھے کہ تم مسلمان ہو جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ اب پولیس خود کو معصوم قرار دے رہی ہے تا کہ میں درخواست واپس لے لوں۔
واضح رہے کہ کوروناوائرس کی باعث بھارت میں جاری لاک ڈائون کے دوران پولیس لاک ڈائون کی خلاف ورزی کرنے پر مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنارہی ہے جبکہ ہندوئوں کو چھوڑ رہی ہے۔