اگلی عالمی طاقت کون؟

144

سمیع اللہ ملک
کوروناکے حوالے سے جہاں امریکا اورچین کے درمیان زورآزمائی کاسلسلہ جاری ہے وہیں، عالمی ادارہ صحت بیچ میں پھنس کر رہ گیا ہے کیونکہ اس عالمگیروباکوکنٹرول کرنے کی ذمے داری اصلاً عالمی ادارہ صحت کی ہے۔چین نے اقوام متحدہ میں اپنی پوزیشن غیرمعمولی حدتک مستحکم کرلی ہے۔ اُدھرعالمی ادارہ صحت کی قیادت اوربالخصوص اس کے سربراہ ٹیڈروس اوران کے رفقاپر کوروناکی روک تھام کے حوالے سے خاطر خواہ اقدامات کرنے کے بجائے چین کے مفادات کوتحفظ فراہم کرنے کاالزام ہے۔اس الزام کی بنیادیہ حقیقت ہے کہ جب ووہان(چین)میں کوروناکی وباپھیلی تب چینی قیادت کی طرف سے کیے جانے والے اس دعوے کی عالمی ادارہ صحت نے تائیدکی کہ یہ مرض انسان کوانسان سے نہیں لگتا۔ساتھ ہی مختلف اقوام کی طرف سے چین کے سفراورچین سے آنے والوں کوقبول کرنے سے انکارسے متعلق پالیسی کی بھی مخالفت کی۔مبصرین کاکہناہے کہ عالمی ادارہ صحت نے کورونا کوعالمگیروباقراردینے اوراس حوالے سے ہنگامی حالت نافذکرنے میں بھی تاخیرسے کام لیا۔
اس الزام سے قطع نظریہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ چین نے عالمی اداروں میں اپنی پوزیشن غیرمعمولی حدتک مستحکم کرلی ہے۔ اب ایک ایسی دنیاابھررہی ہے جس میں تمام معاملات چین کے ہاتھ میں ہیں۔ امریکا اوریورپ تمام معاملات میں حتمی نوعیت کے عالمگیر فیصلوں میں چین کونظراندازنہیں کرسکتے۔ ماحول کوتحفظ فراہم کرنے کے حوالے سے بھی یہی معاملہ رہاہے۔ ترقی یافتہ ممالک سمیت پوری دنیانے اس حقیقت کوتسلیم کرنے سے کبھی انکارنہیں کیاکہ ماحول کوپہنچنے والانقصان پوری انسانیت کے لیے انتہائی خطرناک ہے مگرجب اقدامات کی بات آتی ہے توسب اپنے مفادات کوزیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کی بات کرتے ہیں۔ یوں خاطرخواہ اقدامات ممکن نہیں ہوپاتے۔اس معاملے میں لاگت کامعاملہ بھی مسائل کھڑے کرتارہاہے۔ امریکااورچین کے درمیان کشیدگی اس سے پہلے بھی پائی جاتی رہی ہے، تاہم کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد اس تناؤ میں مزید بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ امریکادن رات یہ راگ الاپ رہاہے کہ چین نے کوروناکی شکل میں دنیاکوایک بڑے عفریت کے حوالے کردیا ہے جب کہ چین یہ ثابت کرنے کی بھرپورکوشش کررہا ہے کہ یہ اس کی حدودسے باہرنہیں آیا۔
عالمی ادارہ صحت اورچین کے تعلقات کی نوعیت میں تبدیلی2003ء میں سارس بحران کے بعدآئی۔سارس کی وباپھیلنے پرعالمی ادارہ صحت نے چین کے حوالے سے ہیلتھ ایڈوائزری جاری کی۔ تب چین نے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مل کرکام کرناشروع کیا ۔چین کی کمیونسٹ قیادت نے کسی بھی بحرانی کیفیت کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مل کرکام کرنا اورجنوب مشرقی ایشیاکے ممالک کواعتمادمیں لیناشروع کیا۔
بعض مبصرین کے مطابق چین نے عالمی ادارہ صحت کوغیرمعمولی معاونت فراہم کی ہے اور 2017ء میں عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس کے انتخاب میں چین کی حمایت نے کلیدی کرداراداکیا۔اس حقیقت کونظراندازنہیں کیاجاسکتاکہ چین نے عالمی اداروں میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے پرغیرمعمولی توجہ دینے کاجوعمل تین عشرے قبل شروع کیاتھا،وہ اب نتائج پیداکررہا ہے۔ چین 1970ء کے عشرے میں یواین سسٹم میں داخل ہوا۔1980ء کے عشرے میں اس نے اپنے آپ کوعالمی حالات کے مطابق ڈھالنے کاعمل شروع کیااور اب تین عشروں کے بعدخودکوغیرمعمولی حد تک مستحکم کرکے ایسی حیثیت کاحامل بناچکاہے جو امریکا،یورپ اوران کے ہم نواوں کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
سردجنگ کے خاتمے پرپاکستان اورافغان کی مدد سے امریکا واحد سپر پاور کے طور پر ابھرا تھا۔ یورپ اس کاہم نوا تھا۔ کوئی اورملک یا خطہ اس کی بالادستی کوچیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔اب معاملات بہت تبدیل ہوچکے ہیں۔کل تک سب کچھ امریکا کی مرضی سے ہورہاتھااوریک طرفہ طورپرہورہاتھا۔اب معاملہ یہ ہے کہ بیشترعالمی معاملات میں چین کوبھی اعتمادمیں لیناپڑتاہے۔ یونی لیٹرل ازم (یک طرفہ نظام) کی جگہ ملٹی لیٹرل ازم نے لے لی ہے یعنی دنیایک قطبی نہیں رہی بلکہ کثیرقطبی ہوتی جارہی ہے۔
چین کی طاقت میں غیرمعمولی اضافے سے سبھی پریشان ہیں۔مغرب اوربھارت دونوں کے لیے یہ بدلی ہوئی صورتِ حال تشویش کا باعث ہے۔امریکااوراس کے اتحادیوں کوامید ہے کہ چین احساسِ ذمے داری کے حامل اسٹیک ہولڈرکاکرداراداکرے گایعنی دنیاکو چلانے کے امریکا اور یورپ کے طے کردہ اصولوں اورنظام سے ہم آہنگ رہتے ہوئے کام کرتارہے گا۔چین بھی چاہتاہے کہ اپنی مرضی کے اصولوں کودنیاکے سامنے پیش کرے اوردنیاکوان اصولوں کے مطابق چلانے کی کوشش کرے۔چین کی اس خواہش سے اگرکسی کوحیرت ہوگی توصرف انہیں جوواقعی بھولے بادشاہ ہیں۔ 1990ء کے عشرے میں بھارت نے یہ محسوس کیاکہ عالمی معاملات میں امریکاکی بالادستی انتہائی خطرناک ہے۔اس نے چین کے ساتھ مل کرکثیرقطبی دنیایقینی بنانے کی راہ پرسفر شروع کیا۔چین چاہتاہے کہ امریکاکوایک طرف ہٹاکراقوام متحدہ کے نظام میں کلیدی حیثیت حاصل کرے جب کہ امریکااپنی بالا دستی برقراررکھنے کی کوشش کررہاہے۔گزشتہ ماہ امریکانے اقوام متحدہ کے ایک کم معروف ادارے ورلڈ انٹل ایکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کی قیادت یقینی بنانے کے لیے چینی امیدوارکے خلاف کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔
بھارتی قیادت نے افغانستان میں سوویت یونین کے ٹکڑے ہونے کے فوری بعدامریکااورمغرب کویہ تاثردیاکہ وہ خطے میں چین کے سامنے دیواربن سکتاہے کیونکہ مکارہندوسمجھتا ہے کہ امریکاکی بالا دستی کے مقابلے میں چین کی بالا دستی کہیں زیادہ مسائل پیداکرے گی۔چین ہی توہے جونیوکلیئرسپلائرزگروپ میں بھارت کی رکنیت کے خلاف دیواربن کرکھڑا ہے۔عالمی تجارتی منڈیوں کے کامیاب حصول کے لیے پاکستان سے مل کرسی پیک کی تعمیرمیں اسے اپنی موت نظرآرہی ہے۔عالمی مسائل میں پاک چین اشتراک سے ہرکوئی خوفزدہ ہے۔
چین نے یواین سسٹم میں اپنی پوزیشن مضبوط ترکرنے کے لیے جو کچھ کیاہے،اس میں اگرہمارے لیے کوئی سبق ہے توبس یہ کہ ملٹی لیٹرل ازم بجائے خودکوئی مقصدنہیں بلکہ اپنے مفادات کوزیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنایا جانے والاایک اہم حربہ ہے۔ چین نے یواین سسٹم کواپنی کمزوریوں پرقابوپانے کے لیے عمدگی سے استعمال کیا۔ ساڑھے تین عشروں کے دوران چینی قیادت نے یواین سسٹم کے تمام اداروں کواپنے حق میں اچھی طرح استعمال کرنے کے لیے اب اتنی طاقت حاصل کرلی ہے کہ وہ عالمی نظام کوتبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے اورچاہتاہے کہ اصول وہی اپنائے جائیں جووہ طے کرے۔