نقطہ

172

ماہ صیام اور تاجر برادران
رمضان المبارک کی آمد کے منتظر تمام مسلمان ہوتے ہیں کیوں کہ اس مبارک مہینے کا ایک ایک لمحہ ہماری مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ ہے۔ اس خاص الخاص محترم مہینے میں جہاں عبادات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے وہیں دوسری طرف سحر اور افطار کی تیاریوں کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے ۔ رمضان المبارک میں ہر ایک کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کو بہترین اشیائے خور ونوش مہیا کرے۔ مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں رمضان المبارک کے آغاز سے پہلے ہی سے اشیائے خور ونوش کے دام آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں اور غریب اور متوسط طبقے کی دسترس سے دور چلے جاتے ہیں جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سارا سال منافع کمانے والے تاجر اور دکاندار اس مبارک مہینے کے احترام میں اشیاء کے دام نیچے لے آتے تاکہ وہ استطاعت نہ رکھنے والے روزے داروں کے لیے راحت کا سبب بن سکیں اور اپنے لیے اجر عظیم حاصل کر یں۔
رسول اکرمؐ نے فرمایا: ’’سچائی کے ساتھ معاملہ کرنے والا تاجر قیامت کے روزنبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا‘‘۔ کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود رزق کے حصول کے لیے مکر وفریب، دھوکا دہی، مکاری بے ایمانی اور ملاوٹ جیسی گھٹیا اور گھنائونے شیطانی عوامل کا سہارا لیں؟ حلال مال کمانے والے کو اللہ پاک نے اپنا دوست کہا ہے ’’الکاسب حبیب اللہ‘‘۔
عزیز ساتھیوں ’’تجارت اور کاروبار میں جائز اور حلال منافع کمانا غلط نہیں ہے پر ناقص مال کی فروخت، حد سے زیادہ منافع کا تقاضا اور ذخیرہ اندوزی ہمارے تمام جائز منافع کو بھی حرام اور ناپاک کر دیتا ہے اور آخرت میں کڑی سزا کے بھی حقدار بن جاتے ہیں، اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کون سی روش اپناتے ہیں۔ آئیے اس رمضان ہم نئی روایات قائم کریں اور انسانیت کے لیے وہ اعلیٰ مثال چھوڑ جائیں جو ہمارے لیے صدقۂ جاریہ بن جائے۔
شہلا خضر
shehlakhi@gmail.com