احساس پروگرام امداد کا آغاز آج سے ہوگا،وزیراعظم

129

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ احساس پروگرام کے تحت امداد کی فراہمی کا آغاز آج سے ہوگا۔ ان کے بقول ایک کروڑ 20لاکھ خاندانوں کو فی گھرانہ 12ہزار روپے ملیں گے، پہلے مرحلے میں 23لاکھ خاندانوں کو 17ہزار مقامات سے رقوم تقسیم کی جائیں گی اوراس مد میں آئندہ ڈھائی ماہ کے دوران 144ارب روپے خرچ کریں گے۔بدھ کو وزیراعظم کی زیر صدارت کورونا وائرس سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں تمام وزرائے اعلیٰ وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس میں فلائٹ آپریشن اسلام آباد کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی شروع کرنیکا فیصلہ کیا گیا، اس کے علاوہ کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا دائرہ کار ملک بھر میں بچھانے سے متعلق بھی مشاورت کی گئی۔بعد ازاں عمران خان نے صحافیوں کو بریفنگ دی۔انہوںنے بتایا کہ احساس پروگرام میں شامل ہونے کے لیے ایس ایم ایس کے ذریعے ڈیٹا آرہا ہے ،اب تک ساڑھے 3 کروڑ افراد نے ریلیف فنڈ کے لیے ایس ایم ایس کیا ہے، ان کی نادرا سے جانچ کرائی جائے گی ۔انہوں نے واضح کیا اور کہا کہ احساس پروگرام میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہے، صرف مستحقین کو پیسے ملیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا معاشی پیکج دیا ہے، کوشش ہے کہ ایمانداری سے مستحقین تک پیسہ پہنچایا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ غریب طبقے کو ریلیف دینا سب سے بڑا چیلنج ہے، ٹائیگر فورس گلی اور محلوں میں غریبوں تک پہنچیں گے اور ہمیں مسلسل فیڈ بیک دے گی۔پی ٹی آئی کے قومی وصوبائی اسمبلی کے اراکین ٹائیگر فورس کا حصہ بنیں۔ عمران خان نے پاکستان میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح بیماری پھیل رہی ہے اور ہمیں خطرہ ہے کہ اس مہینے کے آخر میں کہیں اسپتالوں میں جگہ کم نہ پڑ جائے، لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم پاکستانیوں کی قوت مدافعت زیادہ ہے یا شاید ہمیں یہ بیماری اثر نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا کا واسطہ اس غلط فہمی میں نہ پڑیں کیونکہ یہ وبا بہت خطرناک ہے اور ہمارے لوگ یہ سوچ کر احتیاط نہیں کررہے کہ پاکستانیوں کو فرق نہیں پڑے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں جس طرح یہ وبا بڑھتی جا رہی ہے تو ہمیں خوف ہے کہ مہینے کے اختتام تک جن چار یا 5 فیصد لوگوں کو اسپتال جانا پڑے گا ان کی تعداد اتنی ہو جائے گی کہ ہمارے اسپتالوں میں آئی سی یو یا شدید بیمار مریضوں کے لیے جگہ نہیں ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ صورت میں ہم شدید بیمار لوگوں کا علاج کرنے سے قاصر ہوں گے اور ہمارے اسپتالوں میں اتنے وینٹی لیٹر نہیں ہوں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پاس مغربی ممالک جیسے وسائل نہیں لیکن اس کے باجود ہمارے ڈاکٹرز اور طبی عملہ فرنٹ لائن پر کورونا وائرس کی وبا کا مقابلہ کر رہا ہے، انہیں حفاظتی سامان پہنچانا اولین ترجیح ہے۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ زرعی علاقوں میں لاک ڈاؤن نہیں ہوگا اور 14اپریل سے شہروں میں تعمیراتی کام کی اجازت ہوگی۔اس موقع پر وزیراعظم کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام رقم کی تقسیم بائیو میٹرک کے بعد ہی ممکن ہوگی،حق داروں کی نشاندہی کے لیے8171 سے تصدیق کی جاسکتی ہے، ایک گھر میں سے ایک شخص رجسٹرڈ ہوگا۔