سفید پوش طبقہ بھوک افلاس کی وجہ سے فاقوںپر مجبور ہو گیا ہے

129

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی لاہور ڈاکٹرذکر اللہ مجاہد نے کہا کہ کورونا وبا سے نجات کیلیے رجوع الی اللہ، حفاظتی تدابیر اور لاک ڈاؤن میں آئین اور قانون کی پاسداری سے ہی کورونا کے خلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے۔ حکمران طبقہ بیانات اور تقریروں سے آگے بڑھ کر ملک میں لاک ڈاؤن سے پیدا ہونے والی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلیے عملی اقدامات کریں۔ دہاڑی دار اور سفید پوش طبقہ بھوک افلاس کی وجہ سے فاقوں اور خود کشاں کرنے پر مجبور ہو گیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لٹن روڈ مرکزی کورونا ریلیف سینٹر میں جماعت اسلامی لاہور کے عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹرذکر اللہ مجاہد نے کہا کہ 248 دن سے مودی سرکار نے کشمیریوں کو لاک ڈائون میں محصور کر رکھا تھا اور کشمیر کی سیاسی اور آئینی حیثیت تبدیل کرنے کا جو قانون بنایا تھا اُس کی مختلف شِقیں پچھلے سات ماہ سے مرحلہ وار نافذ کی جارہی ہیں جبکہ عالمی برداری اور عالمی امن کے ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ گزشتہ دنوں بھارتی حکومت کی جانب سے اعلامیہ جاری ہوا جس کے مطابق اب کشمیر میں ڈومیسائل (شہریت) کا نیا قانون نافذ ہوگا اور اُس کی رُو سے سرکاری محکموں میں چپڑاسی، خاکروب، نچلی سطح کے کلرک، پولیس کانسٹیبل وغیرہ چوتھے درجے کے عہدوں کو کشمیریوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے جبکہ گیزیٹِڈ عہدوں کے لیے پورے انڈیا سے اُمیدوار نوکریوں کے اہل ہوں گے اس کالے قانون کے تحت 80 لاکھ کشمیریوں کے حق خودارادیت شب خون ماراجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب پوری دُنیا کورونا کی وبا سے متاثر ہے وہاںکشمیر میں متاثرین کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہیں جبکہ کچھ افراد کی علاج معالجہ ادویات کی سہولیات نہ ہونے سے اموات ہورہی ہیں وہ تشویشناک ہے۔انہوں نے کہا کہ شہر لاہور میں جماعت اسلامی کی کورونا کے خلاف جاری رجوع الی اللہ مہم 30 کورونا ریلیف سنٹرز اور 700 سے زائد الخدمت کمیٹیوں کے ذریعے جاری رہے گی جس میں شہریوں کو اینٹی کورونا سامان، پکا ہوا کھانا، سبزیاں اور خشک راشن مستحق افراد تک پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔