گندم کی کٹائی کیلیے کسانوں کو حفاظتی سامان مہیا کیا جائے ،علی گورایہ

238

فیصل آباد (جسارت نیوز) کسان بورڈ کے ضلعی صدر علی احمد گورایہ نے کہا ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں گندم کی کٹائی کا آغاز ہوچکا ہے اور فیصل آباد میں بھی ہو نے والا ہے مگر کورونا جیسی مہلک آفت سے کسانوں کو بچانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں ہیں۔ موجودہ حالات میں کسانوں کو درپیش مسائل فوری طور پر حکومتی توجہ کے منتظر ہیں۔ کسانوں کو فوری طور پر حفاظتی سامان فراہم کیا جائے اور گندم کو سمیٹنے میںا ن کی مدد کی جائے۔ گندم ہمارے ملک کی فوڈ سیکورٹی کے لیے بہت اہمیت کی حامل اور کسان کے لیے سب سے بڑی کیش کراپ ہے۔ حکومت کسان سے گندم کے آخری دانے تک خریداری کا بندوبست اورکسانوں سے گندم 1600 روپے من کے حساب سے خریداری کا اعلان کرے۔ آ ٹے اور چینی کے ذمے داروں سے سبسڈی کی رقم وصول کر کے اس کے اصل حقدار کسانوں اور مزدوروں میں تقسیم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں زرعی ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے زراعت کے لیے کسانوں کے نمائندوں کی مشاورت سے زرعی پالیسی کا اعلان کیا جائے۔ 12 سو ارب امدادی رقم میں سے کسانوں کو بھی ان کا حصہ دیا جائے۔ شوگر ملز مافیا سے رواں اور سابق برسوں کی گنے کے کاشتکاروں کی رقوم فوری طور پر دلائی جائیں۔ کسانوں کو آئندہ فصلوں کی کاشت کے لیے بیج اور کھاد مفت مہیا کی جائے اور آبیانہ معاف کیا جائے۔ علی احمد گورایہ نے کہا کہ حالیہ شدید بارشوں اور ژالہ باری سے پورے ملک میں گندم کی تیار فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس نے کسان کی کمر توڑ دی ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے گھروں میں محصور کسان اپنی سال بھر کی روزی سے محروم ہوگئے ہیں۔ گندم کی کم پیداوار اور تباہی سے ملک میں آئندہ سال خوراک کی کمی کا مسئلہ سر اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں حکومت کا فرض ہے کہ کسانوں کے مسائل کی طرف فوری توجہ دے اور جو گندم تباہی سے بچ گئی ہے، اسے سمیٹنے میں کسانوں کو درپیش مشکلات کو کم کرنے کے لیے حکومت ہر طرح کا تعاون کرے۔ گندم کی کٹائی کے لیے تھریشر اور ہارویسٹر وغیرہ کی فراہمی اور کسانوںکو باردانہ کی بروقت اور آسان دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں اور ژالہ باری کی وجہ سے کسانوں کو ہونے والے نقصانات کا فوری تخمینہ لگا کر اس کا ازالہ کیا جائے تاکہ کسان آئندہ فصل کی بوائی آسانی سے کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ کسانوں کو مڈل مین کے ظلم سے بچائے اور یونین کونسل کی سطح پر گندم خریداری کا ایک ہدف مقرر کرکے کسانوں سے گندم براہ راست خریدی جائے۔