سندھ لاک ڈائون میں سختی کے نام پرپکڑ دھکڑ، 114ایف آئی آر،کام معمول کے مطابق رہا

199

کراچی /حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر +نمائندہ جسارت) سندھ میں لاک ڈاؤن میں سختی کے نام پر مزید 385 افراد کو گرفتار کرکے 180 مقدمات درج کیے گئے۔پولیس کے اعداد وشمار کے مطابق صوبے میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر گرفتاریوں کے مجموعی تعداد 4 ہزار 451 ہوگئی ہے جبکہ درج ہونے والے مقدمات کی تعداد 1 ہزار 412 تک جا پہنچی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت کے بعد بدھ کو کراچی میں پولیس کارروائیوں میں تیزی دیکھی گئی، لاک ڈاؤن کے 17ویں روز کراچی سے331 افراد کو گرفتار کیا گیااور166 مقدمات درج ہوئے ۔ناکوں سے ڈاکٹر ز پیر میڈیکل اسٹاف اور خود پولیس اہلکار بھی پریشان ہوگئے ۔شہر کی مختلف شاہراہوں پر قائم پولیس ناکوں پر درجنوں رکشہ ڈرائیور اور موٹر سا ئیکل سوار دھر لیے گئے ،پابندی سے مستثنا قرار دیے گے لازمی سروسز کے زمرے میں آنے والے اداروں کے ملازمین کو بھی زیر حراست رکھا گیا۔ پولیس نے موٹرسا ئیکل کی ڈبل سواری کی خلاف ورزی پر خواتین اور بزرگوں کو بھی نہیں بخشا ،رکشہ میں سوار خواتین اور بچوں کو اتار کر ڈرائیورز کو گرفتار کر لیا گیا۔لازمی سروسز کے اداروں سوئی گیس، پی ٹی سی ایل، کے ای ، ڈاکٹر ز پیرا میڈیکل اسٹاف اور خود پولیس اہلکاروں نے بھی پولیس کارروائیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ صدر ایمپریس مارکیٹ کے پاس پی ایم اے کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قیصر سجاد کو پویس نے روک لیا،ڈاکٹر قیصر سجاد نے اپیل کی ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور پولیس چیف صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ادھر اورنگی ٹاؤن میں بنارس پل کے قریب باوردی اہلکار اے ایس آئی وقار کو ناکے پر موجود اہلکاروں نے روک لیااور ڈیوٹی کے بجائے گھر جانے کی ہدایت کی ۔مشتعل اہلکار نے وڈیو بنا کر اعلیٰ افسران کو بھیج دی ہے ۔اے ایس آئی وقار کا وڈیو میں کہنا تھا کہ ڈیوٹی پر جارہا ہوں بنارس پل کے قریب ناکے پر روک دیا گیا ہے ،ناکے کی نفری بول رہی ہے کہ رینجرز جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے ۔علاوہ ازیں شہر میں لاک ڈاون کی دھجیاں اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور کام معمول کے مطابق چلتا رہا۔ سنگل پر موجود اہلکار ٹریفک کوکنٹرل کرتے نظرآئے۔دوسری جانب لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر حیدر آباد میں 1 فرد گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔سکھر میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر 53 افراد گرفتار اور ان کے خلاف 12 مقدمات درج کیے گئے، لاڑکانہ میں لاک ڈاؤن کے 17ویں روز صرف 1 مقدمہ درج ہوا جب کہ میرپور خاص اور بے نظیر آباد مسلسل تیسرے روز بھی کوئی گرفتاری نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی مقدمہ درج کیا گیا۔