لاک ڈاؤن : غریبوں میں 144ارب روپے تقسیم کیے جائیں گے، وزیر اعظم

206

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن میں غریب طبقے کو 144ارب روپے تقسیم کیے جائیں گے ۔

اسلام آباد میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نےکہا کہ لوگوں کوباہرنکلنےپرجیلوں میں تونہیں ڈال سکتے،اگر یہ بیماری تیزی سےپھیل گئی توپوری قوم کومشکلات کاسامناکرناپڑسکتاہے،اگراحتیاط کریں گےتوبرےحالات میں بھی مقابلہ کرسکیں گے،یہ بیماری پھیل گئی تو حالات مزید برےہوں گے،جب تک قوم مل کرمقابلہ نہیں کریگی کوئی حکومت کامیاب نہیں ہوسکتی۔

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ چین نےلاک ڈاؤ ن کرکےلوگوں کوگھروں پرکھاناپہنچایا،ہم بھی کل سے17ہزار مقامات سے12ہزارروپےمستحق عوام میں تقسیم کریں گے،ہم نےفیصلہ کیاکہ 14تاریخ سےتعمیراتی سیکٹرکام کرے،اصل لاک ڈاؤن ہم نےشہروں میں کیاہے،زرعی شعبے کیلئے بھی کوئی لاک ڈاؤن نہیں ہے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں ینگ ڈاکٹرزاورپولیس میں تصادم پرافسوس ہوا، بدقسمتی سےہمارے ہیلتھ سیکٹرپرتوجہ نہیں دی گئی،ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں، لیکن ہم طبی عملےکوتحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں،ہمارا ریلیف پیکج 8ارب ڈالر ہے،جرمنی نےایک ہزارارب یوروکاریلیف پیکج دیا،آج امریکانےبھی دوہزارارب ڈالر کاریلیف پیکج دیاہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ لوگوں کو خوداحتیاط کرنی ہے،سب کواحتیاط کرنےکی بہت ضرورت ہے، 22کروڑعوام کی ہم نےمشکل حالات میں مددکرنی ہے،احساس پروگرام بالکل میرٹ پرہوگا،میرٹ پرہی مستحق لوگوں کوپیسےفراہم کیےجاسکتے ہیں،لاک ڈاؤن اس وقت کامیاب ہوگاجب لوگوں کوگھروں پرکھانا،بنیادی ضروریات دستیاب ہوں گی،اس کے لیے ایک کروڑ 20لاکھ خاندانوں کوکل سےپیسےفراہم کیےجائیں گے۔

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سےکوروناآگےتک جائےگااور یہ فورس بھی آگےتک جائیگی،اس وبائی بیماری سے جنگ کے لیے ٹائیگرفورس پروگرام میں خود کو رجسٹرڈ کرائیں

انہوںنے مزید کہا کہ ایس ایم ایس کےذریعےلوگوں کاڈیٹاآرہاہے،جن کی جانچ نادراسےکرائی جائیگی،احساس پروگرام میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہے،اس وقت ہماراسب سےبڑاچیلنج غریب طبقےکوریلیف کیسےدیناہے،ہم نے22کروڑلوگوں کوکھانا پینا فراہم کرناہے۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کیا جس میں کالجز،جامعات ،اسکول، فیکٹریاں اوردکانیں بند کیں،کوروناکیسزکی تعدادبڑھی توہمار ےپاس اتنےوینٹی لیٹرزنہیں ہیں کہ انکا علاج ہوسکے،پاکستان میں 5کروڑ افرادغربت کی لکیر سےنیچےہیں،اگر ہم لاک ڈاؤن میں مزید اضافہ کریں گے تو غریب طبقے کا جینا محال ہوجائے گا۔