پاکستان :ہلاکتیں43ہوگئیں‘متاثرین27سو سے متجاوز‘ 25اپریل تک تعداد50ہزار ہوسکتی ہے‘ حکومتی رپورٹ

553

کراچی /اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر+مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید ایک شخص جاں بحق ہوگیا جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 42 تک جاپہنچی ہے جبکہ مزید کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 2735 ہوگئی ہے۔حکومتِ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سیمزید 2افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔ ملک میں اب تک کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں میں سب سے زیادہ 14 ہلاکتیں سندھ میں ہوئی ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں 12، پنجاب میں 11، گلگت میں 3 اور بلوچستان میں ایک ہلاکت ہوئی ہے۔ہفتے کے روز ملک بھر میں اب تک کورونا وائرس کے 95 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں سے سندھ میں 56، پنجاب میں 18، بلوچستان میں 10، اسلام آباد 7 ، آزاد کشمیر سے 3 اور اور گلگت بلتستان میں ایک کیس سامنے آیا ہے۔پنجاب میں گزشتہ روز 18 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 1087 ہوگئی ہے۔ صوبے میں اب تک کورونا سے 11 افراد جاں بحق بھی ہوچکے ہیں۔سرکاری پورٹل کے مطابق سندھ میں کورونا وائرس کے اب تک مزید 56 کیسز سامنے آچکے ہیں جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد839 ہوگئی ہے۔جبکہ صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے 47 نئے کیسز کے ساتھ 830 کیسز کی تصدیق کی گئی ہے اور صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 14 ہے۔ اسلام آباد میں کورونا وائرس کے مزید 7 کیسز سامنے آئے جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے۔پورٹل کے مطابق اسلام آباد میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 75 ہوگئی ہے۔آزاد کشمیر میں ہفتے کو کورونا وائرس کے مزید 3 کیسز سامنے آئے ہیں جس کی تصدیق وزیر صحت کی جانب سے کی گئی ہے۔وزیر صحت ڈاکٹر نجی نقی کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔ خیبرپختونخوا میں ہفتے کو ایک ہلاکت ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں جاں بحق افراد کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک متاثرہ افراد کے حوالے سے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے لہٰذا گزشتہ روز کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 343 ہے۔ صوبائی وزارت صحت کے مطابق صوبے میں 30 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں۔ بلوچستان میں کورونا وائرس کے 10 نئے کیسز سامنےآئے جس کے بعد صوبے میں کورونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 185 تک پہنچ گئی ہے۔گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کا ایک مریض سامنے آیا جس کے بعد وہاں مریضوں کی مجموعی تعداد 194 ہوگئی ہے۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے کورونا وائرس سے بچائو کے لیے بنائے گئے قومی ایکشن پلان کی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرا دی ہے جس میں 25 اپریل تک ملک میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکومتی اقدامات سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 336 ملین امریکی ڈالرز کی لاگت سے ہیلتھ ایمرجنسی پلان کا نفاذ کر دیا گیا ہے، ملک بھر میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کے اسپتال اور آئسولیشن وارڈ قائم کرکے مخصوص عملہ تعینات کر دیا گیا ہے اور تشخیصی مراکز بھی قائم کر دیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں سے متعلق لگائے گئے اندازے حتمی نہیں لیکن 25 اپریل تک ملک بھر میں 50 ہزار کے قریب افراد کورونا سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جن میں سے 40 ہزار سے زائد افراد معمولی، 7 ہزار کے قریب شدید اور2500 افراد کے قریب مریضوں کی حالت تشویشناک ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے کورونا کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور حکومتی وسائل کے علاوہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی مالی معاونت مل رہی ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 25 اپریل تک ملک بھر میں کورونا کے کنفرم کیسز کی تعداد یورپ سے کم ہو گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق کورونا وائرس سے بچائو کی تدابیر پر صوبوں اور اداروں کے تعاون سے ملک بھر میں عمل درآمد کیا جا رہا ہے، ملک کے 154 اضلاع میں کورونا سے متاثرہ مشتبہ مریضوں کو قرنطینہ میں رکھنے کا بندوبست کیا گیا ہے، ملک بھر میں کورونا کے مریضوں کے لیے 207 اسپتالوں میں بیڈز رکھے گئے ہیں جبکہ تشخیصی مراکز اور کورنٹائن سینٹرزبھی قائم کیے گئے ہیں اور 25 اپریل تک وائرس کی ٹیسٹنگ سہولت میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق 61 مصنوعات کی درآمد میں ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے جبکہ اس حوالے سے مقامی سطح پر بھی آلات تیار کیے جا رہے ہیں۔ ملک بھر میں ہوائی اڈوں اور زمینی داخلی راستوں پر 5تھرمل سکینر اور ایک ہزار سے زائد تھرمل گنز کے ذریعے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے، کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تفتان،چمن اور طور خم بارڈر پر سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں،ایران سے ملحقہ سرحد پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، بیرون ملک سے آنے والے تمام مسافروں کے لیے ہیلتھ سرٹیفکیٹ کی فراہمی لازمی ہے۔ مشتبہ افراد تک رسائی کے لیے پلان مرتب کیا گیا ہے، اب تک 14 لاکھ افراد کی اسکریننگ کی گئی ہے جن میں سے 11 لاکھ افراد کی اسکریننگ ہوائی اڈوں اور 3 لاکھ افراد کی اسکریننگ زمینی داخلی راستوں پر کی گئی ہے جن میں سے 222 مشتبہ افراد کی نشاندہی کرکے انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا۔ آزاد جموں و کشمیر،گلگت بلتستان اور تفتان سمیت ملک بھر میں کورونا وائرس کی تشخیص کے 8مراکز قائم کیے گئے ہیں،وزیر اعظم کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی نے ملکی صورتحال کا جائزہ لے کر کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی بنا دی ہے جبکہ عوام کی آگاہی کے لیے ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا سے شہید ہونے والے افرادکی تدفین کے لیے بھی ایس او پیز وضع کیے گئے ہیں، کورونا سے بچائو کے لیے آگہی مہم چلائی جا رہی ہے۔