اشیائے خورد و نوش پر ٹیکس ختم کیا جائے، سینیٹر سراج الحق کا مطالبہ

5691

اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں ،اشیائے خورد و نوش پر ٹیکس فوری ختم کیا جائے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ الخدمت فائونڈیشن کسی مذہب ،مسلک ،علاقے اور رنگ و نسل کے امتیاز کے بغیر قوم کی خدمت کررہی ہے ، الخدمت فانڈیشن کے ایک لاکھ رضا کار ملک بھرمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں،سیلف آئیسولیشن اپنے آپ کو کورونا سے بچانے کا واحد حل ہے۔

سینیٹر سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اب تک اعلانات اور تقریروں پر اکتفا کئے بیٹھی ہے ۔ عوام مسائل سے دوچار ہیںجبکہ حکومت عملاً کہیں نظر نہیں آرہی ۔لاک ڈائون کو دو ہفتے ہونے کو آئے مگر اسپتالوں میں کورونا سے لڑنے والے ڈاکٹروں تک نہ سامان پہنچا نہ مستحقین کو امداد کا ایک روپیہ ملا۔

سینیٹر سراج الحق نے مزید کہا کہ حکومت اور اپوزیشن اپنی انا کے گنبد سے باہر آکر عوام کی خدمت کا بیڑا اٹھائیں، حکومت امرا کونوازنے کی بجائے عوام کو سبسڈی دیں۔

انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے بجائے حکومت نے اب بھی کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے،حکومت نے بجلی و گیس کے بلوں کو جمع کرانے میںتین ماہ تک رعایت دینے کاا علان کیاتھا مگر بینکوں کو اس بارے میں گائیڈ لائن نہیںدی، جس کی وجہ سے لوگ روزانہ بینکوں کے سامنے قطاروں میں لگے نظرآتے ہیں ،حکومت 25ہزار سے کم آمدن والوںسے بل لینے کی بجائے معاف کرے ۔

سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ٹائیگر فورس بنانے کی بجائے بلدیاتی اداروں کو فعال کریں، 12سو ارب روپیہ ٹائیگر فورس پر لگانے سے خورد برد کا دروازہ کھلے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت گندم کی کٹائی کیلئے کسانوں کو مشینری اور سہولیات دے اور ایمرجنسی بنیادوں پر گندم کو سمیٹنے کے انتظامات کئے جائیں ۔ تبلیغی بھائیوں کے ساتھ حکومتی رویہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔ چھوٹے چھوٹے کمروں میں پچاس پچاس لوگوںکو قید کرنے اور تندرست لوگوں میں کورونا پھیلانے کی بجائے انتہائی عزت و احترام کے ساتھ ان کے علاقوں میں پہنچایا جائے۔