“سب کے جوڑے بنائے”، اٹھارویں صدی کی دریافت اور قرآن

361

سورہ یٰس، آیت (36-32) میں اللہ فرماتا ہے،

وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کے نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے۔”

یہ آیت ساتویں صدی عیسوی میں نازل ہوئی۔ 1100 برس بعد برطانوی ماہر طبیعات و کیمیا، جان ڈالٹن کی ٹحقیق سے 1803 میں Atom دریافت ہوا۔ بات آگے بڑھی جس کے بعد 1890 میں جان تھامسن نے Electron دریافت کیا اور پھر 1960 میں کئی سائنسدانوں نے Proton کا پتہ لگا لیا۔

اب یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا کی ہر شے انتہائی باریک ذرّوں یعنی ایٹموں سے مل کر بنتی ہے اور ہر ایٹم میں مثبت پروٹون اور منفی الیکٹرون پائے جاتے ہیں یعنی جوڑوں کی شکل میں۔

اس کے علاوہ بجلی اور مقناطیسی قوت میں مثبت اور منفی کا وجود دیکھ لیجئیے۔ اسی طرح Organic اور Inorganic دھاتوں کی تقسیم، نظام اعصاب میں Sympathetic اور Parasympathetic کی تقسیم وغیرہ۔ بے شک جن چیزوں سے ہم بے خبر تھے اور ہیں، اللہ نے اُن سب کے جوڑے بنائے۔