بدین، پنگریو: ذخیرہ اندوزی کے باعث اشیا خورونوش کی قلت، مہنگائی میں اضافہ

71

بدین، پنگریو (نمائندہ جسارت) بدین اور پنگریو سمیت ضلع بھر میں لاک ڈاؤن ٹرانسپورٹ کی بندش اور ذخیرہ اندوزی کے باعث اشیا خورونوش کی قلت اور مہنگائی میں اضافہ بڑے بحران کی صورت اختیار کرگیا، ملک بھر میں مسلسل لاک ڈاؤن گڈز ٹرانسپورٹ کی طویل بندش کے باعث بڑے شہروں اور منڈیوں سے خورونوش کے روزمرہ کے استعمال کی اشیا اور اجناس کی اندرون سندھ سپلائی رک جانے کے باعث ایک جانب قلت نے بحران کی صورت اختیار کرلی ہے تو دوسری جانب کمر توڑ مہنگائی اور گراں فروشی نے شہریوں کی قوت خرید کو ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے باعث دیہاڑی دار طبقہ مزدور اور محنت کشوں کو موجودہ صورت حال میں سخت ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹ کی بندش کے بعد بڑے شہروں اور منڈیوں سے اندرون سندھ اور چھوٹے شہروں کو ترسیل بند ہونے کے باعث گھی، آئل، ملک پیک، دالیں، منرل واٹر، انڈوں، سبزیوں، فروٹ سمیت دیگر اشیا خورونوش کی قلت نے مہنگائی کی صورت ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کرلی ہے۔ مقامی سطح پر مین ہول سیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز موجودہ صورت حال میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ذخیرہ کی گئی خورونوش کی اشیا کو مقررہ ریٹ سے کہیں زیادہ میں چھوٹے دکانداروں اور بیکریز کو سپلائی کررہے ہیں، جس کے باعث چھوٹے دکاندار مہنگائی کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ طلب کی جانے والی اشیا سینی ٹائزر، ہینڈ واش، ماسک اور دیگر جراثیم کش محلول میڈیکل اسٹور اور مارکیٹ میں دستیاب ہی نہیں، جس کے باعث شہریوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رہنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ چھوٹے دکانداروں کے مطابق ہر شہر میں چند بڑے مین ہول سیلرز اور ڈسٹری بیوٹر ہونے کی وجہ سے پوری مارکیٹ میں ان کی اجارہ داری قائم ہے مال کی سپلائی میں کمی کی ایک بڑی وجہ حکومتی امدادی راشن پیکیج بھی ہے۔ بڑے ہول سیلرز اور ڈسٹری بیوٹر نے خورونوش کی اشیا اور اجناس بڑی مقدار میں ذخیرہ کر رکھی ہیں، کیونکہ یہ بڑے ہول سیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز اور حکومتی انتظامیہ بھاری کمیشن پر مہنگا غیر معیاری اور مقررہ وزن سے کم راشن اور سامان پیک کر کے غریب مستحقین میں تقسیم کرتے ہیں اور اس مشکل گھڑی میں سب سے زیادہ یہ ذخیرہ اندوز اٹھاتے ہیں۔ چھوٹے دکانداروں کے مطابق ان بڑے تاجروں اور کاروباری افراد کا عالیٰ حکومتی شخصیات اور انتظامیہ سے تعلق ہونے کے باعث کسی بھی کارروائی سے محفوظ رہتے ہیں۔