دنیا کے 10 حیران کُن سائنسی حقائق

600

اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ کائنات اور دنیا بغیر کسی منطق کے نہیں بنائی۔ قدرت کا ہر ایک عمل جو ہمارے مشاہدے میں آتا ہے اُس کے پیچھے ایک سائنس ہے اور وقت کے ساتھ جیسے جیسے انسانی ذہن کا ارتقا ہوا وہ اس سائنس کو سمجھنے میں کامیاب ہوتا رہا۔

چند سائنسی حقائق آپ کے سامنے پیش کئیے جائیں گے جو دلچسپ و عجیب ہیں۔

1) ایک ستارے کے فنا ہوجانے کے بعد اس کی باقیات میں سے کچھ حصے کو اگر ایک چائے کے چمچ میں رکھا جائے تو اُس کا وزن 6 ارب ٹن ہوگا۔

 

2) انسان سوتے میں کبھی نہیں چھینکتا کیونکہ دماغ اضطراری کیفیات یعنی جسم کے بے اختیاری ردِعمل کو سونے کے دوران روک دیتا ہے۔

 

3) ہماری دنیا کی 20 فیصد آکسیجن جنوبی امریکا کا برساتی جنگل امیزون اکیلا پیدا کرتا ہے۔

 

4) نو مولود بچوں میں تقریباً 100 ہڈیاں زیادہ ہوتی ہیں بنسبت ایک بالغ انسان کے مگر جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے تو ہڈیاں آپس میں جڑ کر 206 رہ جاتی ہیں۔

 

5) اسکولوں میں کلاس کے بلیک بورڈ پر لکھائی کیلئے استعمال ہونے والی چاک کھربوں خردبین آثار متحجر جنہیں انگریزی میں Fossils کہا جاتا ہے، سے بنی ہے۔ Fossils دراصل ایسے جاندار کی باقیات ہوتی ہیں جو لاکھوں سال پہلے زمین پر بستے تھے۔

 

6) انسان کے پیٹ کے اندر ہاضمے میں مدد دینے والے تیزاب کی تاثیر اتنی شدید ہے کہ اسٹیل کو بھی گَلا دے۔

 

7) ہمارے نظام شمسی یعنی Solar system میں سارے سیارے سورج کے گرد چکر کاٹنے کے ساتھ ساتھ اپنے مدار میں بھی گھومتے ہیں۔ ہر سیارہ اپنے مدار میں گھڑی کی سوئی کی مخالف سمت یعنی Anti-clockwise گھومتا ہے سوائے وینس کے جو clockwise گھومتا ہے۔

 

8) انسان کی سونگھنے کی حِس 50,000 مختلف اقسام کی مہک کو اپنی یاداشت میں محفوظ کرسکتی ہے۔

 

9) پیرس میں موجود ایفل ٹاور کی لمبائی 300 میٹر ہے لیکن موسم گرما میں اُس کی لمبائی 15cm بڑھ جاتی ہے کیونکہ ہر مادی شے کا طول و عرض درجہ حرارت کے اضافے پر بڑھ جاتا ہے جسے Thermal expansion کہا جاتا ہے۔

 

10) ایک عام آدمی اپنی پوری زندگی جتنا چلتا ہے وہ پوری دنیا کا 5 بار پیدل سفر کرنے کے برابر ہے۔