کراچی میں11 ہزار بلدیاتی ملازمین پر مشتمل 440 کمیٹیاں قائم

139

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) حکومت سندھ نے کوروناوائرس سے پیدا ہونے والی کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے اور عوامی خدمت کے لیے 11 ہزار بلدیاتی ملازمین پر مشتمل 440 ” خدمت گار ہنگامی جماعتیں ” تشکیل دیدی ہیں جو کراچی کے لیے مخصوص ہونگی۔ یہ ٹیمیں کراچی کے ضلعی بلدیاتی ، ترقیاتی اداروں اور خود مختار اداروں کے ملازمین پر مشتمل ہیں۔ قابل اعتماد سرکاری ذرائع کے مطابق رضا کار جماعتیں دراصل ایک فورس کی شکل میں کام کریں گی۔ ہر ٹیم 25 رکنی ہوگی ہر ایک ٹیم کا لیڈر گریڈ 16 یا اس سے زاید گریڈ کا افسر ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور شہر کی 6 ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز، ایک ڈسٹرکٹ کونسل ، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی ، سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ مینجمنٹ بورڈ ، کراچی و ملیر اور لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے گریڈ ایک تا 19 گریڈ کے افسران اور ملازمین ان کمیٹیوں میں شامل ہونگے۔ ان کمیٹیوں سے کورونا وائرس کے تناظر میں عوامی خدمت سے متعلق کوئی بھی کام لیا جاسکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا گیا ہے کہ کمیٹیوں کو تشکیل دیتے وقت اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ صرف ان محکموں کے افسران و ملازمین کو اس میں شامل کیا گیا ہے جن کا تعلق لازمی اور ضروری سروسز فراہم کرنے والے محکموں سے نہیں ہے۔ جیسے فائر بریگیڈ ، اکاؤنٹس، فنانس ، انفارمیشن وغیرہ ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام رضا کار جماعتوں کو “اسٹینڈ بائی ” رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین پر مشتمل ان ٹیموں سے لاک ڈاؤن سے متاثرہ غریب اور مستحق افراد تک راشن وغیرہ بھی پہنچایا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے ایسی جماعتیں یا فورسز پورے صوبے کے ہر ڈویژن میں بنائی جائیں گی۔ لیکن فی الحال کراچی میں اسپتالوں اور مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے اور شہر بڑا ہونے کی وجہ سے ان ٹیموں کو حتمی شکل دی گئی ہے ۔ یہ ٹیمیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی ہدایت پر تشکیل دی گئیں اور دی جارہی ہے۔ ان ٹیموں کی تشکیل میں منتخب بلدیاتی نمائندوں کا تعاون اب تک حاصل نہیں کیا گیا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے میں عوامی نمائندوں سے بھی ان کے لیے کمیٹیوں کیلیے تعاون حاصل کیا جائے گا۔