جماعت اسلامی سندھ کا17اسپتال70 ایمبولینس150دفاتر حکومت کو دینے کی پیشکش

90

کراچی (اسٹاف رپورٹر) الخدمت فاؤنڈیشن سندھ کے سرپرست اور جماعت اسلامی کے صوبائی امیر محمد حسین محنتی نے سندھ حکومت کو الخدمت کے17 اسپتال، 70 ایمبولینس ومیت گاڑیاں، 150 سے زاید دفاترکورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل وامتحان کی اس گھڑی میں پوری قوم متحد اور بحران سے نکلنے کے لیے پُرعزم ہے۔ وڈیو لنک پرمیڈیا پریس بریفنگ دیتے ہوئے محمد حسین محنتی نے کہا کہ جماعت اسلامی مصیبت وآزمائش کی اس گھڑی میں سندھ کے عوام کو ہرگز اکیلا نہیں چھوڑے گی۔ ان کا کہنا تھاکہ اس وقت تک جماعت اسلامی اور الخدمت کے ہزاروں رضاکار ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا راشن اور پکا پکایا کھانا کراچی تا کشمور کے مستحق خاندانوں میں تقسیم کر چکے ہیں۔ سکھر میں قائم قرنطینہ سینٹر میں الخدمت کے رضاکار ڈیوٹی پر موجود تمام اہلکاروں، پیرا میڈیکل اسٹاف ودیگر کو تین وقت چائے، بسکٹ، پاپے اورصاف پانی فراہم کر رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن سے متاثرہ خاندانوں خاص طور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے محنت کشوں وسفید پوش لوگوں کی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح لوگوں میں حفاظتی کٹس، ماسک، سنیٹائرز فراہم جبکہ مخصوص مقامات پرہاتھ دھونے کے لیے صابن وپانی کی ٹنکیاں رکھی گئی ہیں۔ کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، کوٹری، ٹنڈو جام، تھرپارکر، ٹنڈو الہیار، شکارپور، کندھ کوٹ، شہدادکوٹ اور ڈھرکی کے اسپتال شامل ہیں۔ صوبائی امیر نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ کورونا وائرس کی صورتحال کی آزمائش خاص طور پرلاک ڈاؤن کے دوران متاثر ہونے والے دھاڑی دار افراد اور سفید پوش خاندانوں کی مدد کے لیے دل کھول کر تعاون کریں۔ اناج راشن اور نقد عطیات جماعت اسلامی اور الخدمت کے دفاترمیں جمع کرائیں۔علاوہ ازیں انہوں نے حکومتی پیکیج کو عوامی امیدوں کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم خود بتائیں کہ جب ان کے مختصر خاندان کا ماہانہ 2 لاکھ کی تنخواہ میں گھر چلانا شکل ہے تو پھر ایک عام آدمی کا تین ہزار روپے میں کیسے گزارا ممکن ہے۔ صوبائی امیر نے مطالبہ کیا کہ عالمی منڈی کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی، روزمرہ کی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں پر کنٹرول اور ذخیرہ اندوز و منافع خور ظالم تاجروں کے خلاف سخت کاروائی کرکے عام آدمی کو ریلیف دیا جائے۔