عافیہ کے معاملے میں حکومت کی بے حسی

178

اس وقت کورونا کی وجہ سے پاکستان سمیت پوری دنیا میں قیدیوں کو رہا کیا جارہا ہے کہ جیل میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے خدشات زیادہ ہیں ۔ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی اس وقت امریکی جیل میں قید ہیں ۔ یہ ایک کھلا راز ہے کہ کس طرح سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستانی ایجنسیوں کی مدد سے پہلے بگرام جیل پہنچایا گیا اور پھر اس کے بعد امریکا ۔ایک احمقانہ الزام میں کہ ایک نحیف سی لڑکی نے امریکی کمانڈو سے اس کی گن چھین کر اس پر قاتلانہ حملہ کردیا ، انہیں 86 برس کی سزا سنادی گئی ۔ یہ سزا بھی امریکی نظام انصاف پر طمانچہ ہے ۔ اس پورے قضیے میںسب سے زیادہ افسوسناک کردار پاکستانی حکومتوں کا ہے ۔ جنرل پرویز مشرف نے قوم کی بیٹی کو امریکیوں کے ہاتھ فروخت کیا تو ان کے بعد آنے والے حکمرانوں شریف ، زرداری اور اب نیازی نے شعوری طور پر کوشش کی کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ملک واپس نہ آسکیں ۔کورونا کی وجہ سے ایران نے امریکا میں مقید اور امریکا نے ایران میں مقید اپنے شہری خصوصی پروازوں سے اپنے اپنے ممالک میں بلالیے ہیں ۔ ایسے میں پاکستانی حکومت بھی اپنی محبوب امریکی حکومت سے ڈاکٹر عافیہ کی پاکستان منتقلی کی بات کرسکتی تھی مگر عمران خان نیازی اور شاہ محمود قریشی کو حکومت میں آنے سے قبل ڈاکٹر عافیہ کی والدہ اور قوم سے کیا گیا ایک وعدہ بھی یاد نہیں ۔ امریکی حکومت کے رویے کو دیکھتے ہوئے اس بات کے قوی اندیشے موجود ہیں کہ کہیں امریکی حکام موقع دیکھ کر ڈاکٹر عافیہ کو کورونا کے نام پر ختم ہی نہ کردیں ۔ یہاں پر تو یہ صورتحال ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کووہ سہولتیں بھی نہیں دی جارہی ہیں جو امریکی جیل مینوئل کے مطابق انہیں ملنی چاہییں ۔ تین برس سے ان کے خاندان کا ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے ۔ اصولی طور پر انہیں ہر ہفتے تین سو منٹ گفتگو اور چالیس منٹ تک ملاقات کی اجازت ہے مگر امریکی حکومت انہیں یہ حق بھی دینے سے انکاری ہے ۔ حیرت ہے پاکستانی وزارت خارجہ اس معاملے پر ٹس سے مس ہونے کو تیار ہی نہیں ہے ۔ ان کے پاس کسی بات کا کوئی جواب نہیں ہے مگر ڈھٹائی ہے کہ جس کی کوئی حد نہیںہے ۔تاریخ میں جہاں امریکی ظلم کا تذکرہ ہوگا وہیں پر پاکستانی حکومتوں کی بے حسی بھی درج ہوگی ۔