کراچی لاک ڈاؤن، قانون نافذ کرنے والوں کا صحافیوں سے ناروا سلوک

408

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کورونا وائرس کے باعث کراچی میں جزوی لاک ڈاؤن مزاخ بن گیا ،صحافیوں پر جبری پابندیاں   عائد کرتے ہوئے، نارواسلوک کیا جانے لگا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کوروناوائرس کے خاتمے میں جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے،پیرا میڈیکل اسٹاف اپنا کردار اداکررہے ہیں وہیں صحافی بھی اس محاذ پرفرنٹ لائن کا کردار ادا کررہے ہیں ، تاہم پولیس کی جانب سے جگہ جگہ اپنے آقاﺅں کی خوشنودی کےلیے لگائے گئے بیئرز اورناکے افسران بالا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں ۔ صحافیوں کو آفس آنے جانے اوراپنے پیشہ ورانہ کام کی انجام دہی میں پولیس اہلکار پریشانی کا باعث بنتے جارہے ہیں۔

گزشتہ روز بھی متعدد صحافی حضرات کو نارواسلوک کی اطلاعات سامنے آئی تھیں،اس سے قبل سندھی نیوز ٹی وی کے رپورٹر پر بھی مقدمہ درج کیاگیا تھا۔ اس کے علاوہ کلاکوٹ تھانے میں تعینات انسپکٹر ریاض نے صحافی کے ادارتی کارڈ ،لیٹر اور پریس کلب کا کارڈ دکھانے کے باوجود بدتمیزی کی گئی اور صحافی کو یہ بھی کہہ دیا کہ شکایت “آئی جی سندھ سے کرو یا یا پھر آئی جی سندھ کے باپ سے کرو،ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا”۔ اس طرح کی زبان کا استعمال پولیس کی جانب سے معمول بنتی جارہا ہے۔

دوسری جانب نیپئر تھانے کی حدود لیمارکیٹ پر بھی ناکہ لگاکر افسران بالا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے،شہریوں کو آنے جانے کی مکمل طورپر آزادی ہے اور کلاکوٹ اورنیپئر تھانے کی حدود میں شہری کرکٹ تک کھیلنے میں مصروف رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ نیو ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کو پہلے ہی صحافی کے ساتھ ناروا سلوک پر معطل کیا جاچکا ہے۔