پنگریو،اجناس کی خریداری کے مراکز بند،کاشتکاروں کو نقصان

95

پنگریو (نمائندہ جسارت) کورونا وائرس پر کنٹرول کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے کیے جانے والے لاک ڈائون کے باعث صوبے میں زرعی اجناس کی خریداری کے مراکز بند ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے کاشت کاروں کی اجناس کھیتوں اور گھروں میں پڑی خراب ہونا شروع ہوگئی ہے۔ اوپن مارکیٹ میں گندم اوردیگراجناس فروخت نہ ہونے کے باعث جہاں ایک طرف کاشت کارپریشانی کا شکار ہیں تو دوسری طرف لاک ڈائون برقراررہنے کی صورت میں شہروں میں آٹے، سبزیوں اور دیگر ضروری اشیا کی شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے حکومت سندھ نے لاک ڈائون کے دوران بند رکھے جانے والے کاروبار میں زرعی اجناس کی خریدوفروخت کے مراکز کو بھی شامل کررکھا ہے جس کی وجہ سے پنگریواوردیگر شہروں میں ایسے مراکز بند ہوگئے ہیں حکومت سندھ نے اگرچہ سبزیوں کی خریدوفروخت پر پابندی عائدنہیں کی مگر لاک ڈائون پر سختی کیے جانے کے بعد اندرون سندھ سے کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں جانے والی ٹرانسپورٹ بند ہوگئی ہے جس کی وجہ سے کھیتوں سے مارکیٹوں میں لے جائی جانے والی سبزیاں اب کھیتوں میں گلنا سڑنا شروع ہوگئی ہیں اندرون سندھ میں گندم، سرسوں، سورج مکھی، اسپغول اور دیگر زرعی اجناس کی خریداری بند ہونے کے باعث ہزاروں کسان لاک ڈائون ختم ہونے اوراپنی اجناس فروخت ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔ زیریں سندھ میں گندم، سورج مکھی، سرسوں، اسپغول اور ربیع کی دیگر فصلیں کٹائی کے بعد مارکیٹنگ کے مرحلے میں ہیں مگر عین اس دوران ان فصلوں کی فروخت لاک ڈائون کے باعث خریداری مراکز بند ہونے کے باعث رک گئی ہے، جس سے کسانوں کو زبردست معاشی نقصان ہورہا ہے۔ سندھ کی کاشت کار تنظیموں سندھ آباد گار بورڈ، ایوان زراعت، لاڑ آبادگار فورم، سندھ آبادگار تنظیم نے اس صورتحال پر شدید تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈائون میں زرعی اجناس کی خریدو فروخت کے کاروبار پر پابندی عائد کیے جانے کے باعث سندھ کے کسانوں کے ساتھ ساتھ دیگر شہری بھی متاثر ہوں گے کیونکہ گندم اور دیگر ضروری اشیا کی خریدو فروخت بند ہونے سے شہروں میں آٹے اور سبزیوں کا بحران پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ان تنظیموں نے وزیر اعلیٰ سندھ سے اپیل کی ہے کہ سندھ میں گندم، سرسوں، اسپغول اور ربیع کی دیگر اترنے والی زرعی اجناس کی خریدوفروخت کے کاروبار پر عائد پابندی ختم کرکے صوبے کے لاکھوں کسانوں کو معاشی بدحالی اورشہریوں کوپریشانی سے بچایا جائے۔