وڈیو لنک اجلاس میں وزیراعظم کے اٹھ جانے پر شہباز اور بلاول کا واک آؤٹ

52

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)کورونا وائرس کے حوالے سے بذریعہ ویڈیو لنک ہونے والے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس سے وزیراعظم عمران خان کے اٹھ کر جانے پر حزب اختلاف نے بھی بائیکاٹ کردیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدات قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بذریعہ ویڈیو لنک ہوا جس سے وزیراعظم عمران خان نے بھی خطاب کیا۔کانفرنس کے دوران ہی
وزیر اعظم عمران خان اٹھ کر چلے گئے جس پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے واک آؤٹ کیا۔ اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ اجلاس میں بیٹھنا تک گوارا نہیں کیا، پاکستان کو تاریخ کی سب سے بڑی وبا ء کا سامنا ہے اور وزیراعظم موجود نہیں، اگروزیراعظم کی یہ سنجیدگی ہے تو ہم اجلاس میں نہیں بیٹھیں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اتنا بھی احساس نہیں کہ یہ مشاورتی اجلاس ہے، ہم یہاں سیاست کرنے تو نہیں آئے، یہ سوچنے بیٹھے ہیں کہ مل کر قوم کو کیسے بچائیں۔ویڈیو کانفرنس میں پیپلزپارٹی کی جانب سے بلاول بھٹو اور شیری رحمان نے شرکت کی جب کہ ن لیگ کی جانب سے شہبازشریف، مشاہداللہ خان اور خواجہ آصف شریک ہوئے۔علاوہ ازیںپاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے وزیراعظم عمران خان سے کورونا وائرس سے متعلق پالیسیوں پر نظر ثانی کا مطالبہ کردیا۔کراچی سے بذریعہ ویڈیو لنک پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول زرداری نے کہا کہ وفاق کو ایسے اقدامات اٹھانے چاہییں جس سے وبا کا پھیلاؤ کم ہو ،کورونا مزید پھیل گیا تو اس پرقابو نہیں کرسکیں گے۔بلاول زرداری نے کہا کہ وزیراعظم نے جو اقتصادی پیکج کا اعلان کیا ہے وہ کافی نہیں، ہمیں غریب عوام کی صحت اور معاشی صورتحال کا خیال رکھنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت شرح سود کو ایک ہندسے (سنگل ڈیجیٹ) پر لائے اور غریب خاندانوں کے لیے ماہانہ امداد 18 ہزار روپے ہونی چاہیے۔خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں اور روزگار متاثر ہونے کے باعث مزدور طبقے کو فی خاندان ماہانہ 3 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے اسپتالوں اور ٹیسٹ کی استعداد بڑھانی چاہیے، سماجی فاصلے کے ضابطے پر عمل نہیں کیاگیا تو اس سے بہت نقصان ہوگا۔