حیدرآباد ،لاک ڈاؤن مزید سخت ،حکومتی اعلان کے باوجود غریب راشن سے محروم

57

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر)لاک ڈائون مزید سخت،تمام کاروباری مراکز ، دکانیں اور بازار بند رہے جبکہ لاک ڈائون سے مستثنا بیکری ،دودھ اور گوشت کی دکانوںکو رات 8بجے تک کھولنے کی اجازت دی گئی تھی اور رات 8بجے کے بعد پولیس اور رینجرز نے تمام دکانوں کوبند کرا دیا صرف میڈیکل اسٹورزکھلے رہے جبکہ شہریوں کو بھی رات 8سے صبح 8بجے تک گھروں سے نکلنے پرمکمل پابندی تھی تاہم اسپتالوں میں کام کرنے والے عملے ،ڈاکٹرز ،میڈیکل اسٹورز مالکان اور صحافیوں کو استثناحاصل تھا ،دن بھررینجرز اور پولیس کا گشت جاری رہا جبکہ حیدرآباد سے سندھ کے مختلف شہروں کیلیے چلائی جانے والی بسیں ، ویگن اور دیگر ٹرانسپورٹ بھی مکمل طورپر بند رہی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے احکامات کے مطابق حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں 8 روز سے مکمل طورپر کاروباری مراکز و تجارتی بازار مکمل بند ہیں جبکہ 15روز کے مکمل لاک ڈائون کے بعد نجی فیکٹریوں ، ملوں اور صنعتی اداروں کو بھی بند کرا دیا گیا ہے،ادھر 8روز سے کاروبار بند ہونے کی وجہ سے روزانہ اجرت پر کام کرکے اپنے بچوں کی کفالت کرنے والے مزدور اور غریب افراد کو مشکلات کا سامنا ہے اور حکومتی اعلان کے باوجود ابتک مزدوروں اور ضرورت مندوں کو راشن پہنچانے کا کام شروع نہیں کیا گیا تاہم مختلف سماجی تنظیموں اور مخیر حضرات کی جانب سے بیشتر مقامات پرکھانا، راشن ، سینیٹائزر ، ماسک و دیگر اشیا تقسیم کی جارہی ہیں لیکن کئی علاقوں میں غریب مزدور اور ضرورت مندافراد مفت راشن اور کھانے پینے کی اشیا تلاش کرتے نظر آئے ۔ شہریوںکا مطالبہ ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں مزدور طبقے کیلیے راشن کا انتظام کریں اور راشن کی تقسیم کے عمل کو شفاف بنانے اورمستحق افراد تک پہنچانے کیلیے یوسی چیئرمینزاور اراکین صوبائی و قومی اسمبلی کے بجائے یہ کام سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں کروایا جائے کیونکہ یہ سیاسی لوگ صرف بندربانٹ کریں گے اور غریب ویسے ہی بھوکا مرتا رہے گا۔