افغان وحدت و استقلال کے امین۔۔۔ (حصہ سوم)

201

نور محمد ترکئی سے اقتدار چھین لینے کے بعد حفیظ اللہ امین کے طرز عمل میں نمایاں تبدیلی آئی۔ ان کے سامنے افغانستان کی خود مختاری کا سوال تھا۔ وہ بااختیار طور حکومت کرنے کے خواہاں تھے، خلق پارٹی کے برعکس ’’ملی جمہوری پارٹی افغانستان‘‘ کے نام سے الگ جماعت قائم کرلی۔ انہی دنوں پاکستان سے وزیر خارجہ زین نورانی کی قیادت میں وفد کو کابل جانا تھا۔ جسے روکنے کے لیے ’’کے جی بی‘‘ نے پاکستان اور امریکی افواج کا افغانستان پر حملے کا ڈراما رچایا۔ یعنی حفیظ اللہ امین اور پاکستان کو قریب ہونے نہیں دیا گیا۔ بالآخر 28 دسمبر 1979ء کو (پاکستانی وفد کے آنے سے پہلے) روسی فوجیں براہ راست افغانستان میں داخل ہوئیں۔ حفیظ اللہ امین کی رہاش گاہ تاج بیگ محل پر حملہ کیا۔ صدارتی محافظ دستوں کے چند گھنٹے مقابلے کے بعد حفیظ اللہ امین بیٹے، خاندان کے دوسرے افراد اور صدارتی محافظ دستے کی بڑی تعداد کے ساتھ قتل ہوئے۔ روسی طیارے اور ہیلی کاپٹر تاشقند کے ہوائی اڈے سے اُڑ کر صدارتی محل پر حملے میں شریک ہوئے۔ حملے کے وقت فضائی نگرانی کرتے رہے۔ روس کی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما ’’اولیانوفسکی‘‘ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’’افغانستان فوج بھیج کر روس نے وہاں پشتون اکثریت کی آمریت ختم کرکے اقتدار اقلیت کے حوالے کردیا‘‘۔ کہا جاتا کہ روسی حاکمیت کے اندر ان اقوام کی محرومیاں ختم ہو جائیں گی۔ حفیظ اللہ امین کے قتل کے بعد ببرک کارمل جیسے مکار، بد خصلت، دروغ گو اور ضمیر و وطن فروش شخص صدر بنائے گئے۔ ببرک کارمل ماسکو کا اتنا وفادار تھا کہ اپنے بیٹے کا نام ’’واسخوف‘‘ رکھا۔ پرچم پارٹی کے ایک رہنما میر اکبر خیبر، جسے کے جی بی نے سردار دائود کے دور ہی میں قتل کردیا تھا نے ببرک کارمل بارے کہا تھا کہ یہ روس کا جاسوس ہے۔ چاہتا ہے کہ افغانستان کو ماسکو کی جھولی میں رکھ دے۔ میر اکبر خیبر نے سردار دائود کے خلاف فوجی بغاوت کی مخالفت بھی کی تھی۔ وہ پارلیمانی و سیاسی تحریک کے ذریعے نظام کی تبدیلی کی سوچ کے حامل تھے۔ ببرک کارمل اور اس کی جماعت پرچم اسی طرح خلق پارٹی کے سربراہ نور محمد ترہ کئی کے ہم خیال کمیونسٹ افغانستان کو سوویت یونین کا سولہواں جمہوریہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ برملا کہتے کہ روس ایک بڑی طاقت اور ترقی یافتہ ملک ہے، الحاق سے افغانستان بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ گلبدین حکمت یار کے مطابق ڈاکٹر نجیب اللہ نے کابل یونیورسٹی میں اُن کے سامنے ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تھا۔ افغان واقفان حال یہ بھی بتاتے ہیں کہ افغانستان کو ’’بخارا‘‘ طرز پر سوویت یونین کے تصرف میں د یے جانا تھا۔
سرداردائود کے خلاف بغاوت کے بعد افغانستان کے مختلف صوبوں اور علاقوں میں عوام نے احتجاج شروع کیا۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات سڑکوں پر نکل آئے۔ ساتھ افغان عوام نے مسلح مزاحمت بھی شروع کر دی۔ لرزہ بر اندام نور محمد ترہ کئی اور تب حفیظ اللہ امین نے اقتدار پر قبضہ کے اوائل ہی میں ماسکو سے فوجیں افغانستان میں داخل کرنے کی منتیں شروع کر دی تھیں۔ گُزاف وکذب گوئی کرتے کہ چار ہزار پاکستانی فوجی افغانی لباس میں اور چار ہزار ایرانی فوج ان کی حکومت کے خلاف لڑنے افغانستان میں داخل ہو چکی ہے۔ نور محمد ترہ کئی نے اپنی بارہا کی التجائوں میں یہ تجویز بھی دی کہ بے شک وسطی ایشیاء کی روسی فوجیں بھیجی جائیں۔ کہ افغان فوجی لباس میں ان پر گمان شمال کے افغان باشندوں کا ہوگا۔ یوں ماسکو پر فوجی مداخلت کا اعتراض نہ ہو سکے گا۔ کمیونسٹوں نے ایک دوسرے کو مارنے کے ساتھ انقلاب مخالفین کو بھی مارنا شروع کر دیا تھا۔ انقلاب کے محض تین دن کے اندر تین ہزار افراد قتل ہوئے۔ جبکہ نور محمد ترہ کئی اور خلقیوں کی بیس ماہ حکومت میں یہ تعداد تیس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ سنگ دلی، شقاوت کی بھیانک داستانیں رقم کر دیں۔ ہزاروں مخالفین کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ یہاں تک کہ چھ سو مخالفین کو یورال اور سائبیریا کے عقوبت خانوں میں بھیجا گیا۔ چودہ فروری 1979ء کو کابل میں تعینات امریکی سفیر ’’اڈولف ڈیوس‘‘ قتل ہوا۔ یہاں تک کہ ماسکو کو کہنا پڑا کہ کابل رجیم اپنا طریقہ کار بدل ڈالے۔ جس پر نور محمد ترہ کئی نے کہا کہ مخالفین کو جیلوں میں ڈالنا، مارنا اور راستے سے ہٹانا استاد لینن ہی کی تعلیمات ہیں۔
ببرک کارمل جب صدر بنے تو مجاہدین کے خلاف لڑنے کے لیے نجی ملیشیائیں قائم کر دیں۔ ان میں رشید دوستم کی گلیم جم ملیشیاء، عصمت اللہ اچکزئی کی عصمت مسلم ملیشیاء اور نادری سید کی کیان ملیشیائیں ظلم اور مردم کشی میں بہت آگے گئیں۔ ان ملیشائوں کی وجہ سے روسیوں کے نکلنے کے بعد بھی امن کا خواب ادھورا رہ گیا۔ جیسے کہا گیا کہ ببرک کارمل اور اس کی جماعت پرچم اور چند خلقی افغانستان کی تقسیم کی سوچ رکھتے تھے۔ بعد ازاں حزب وحدت اور چند دوسری شخصیات بھی اس سوچ کی حامل ہوئیں۔ جمعیت اسلامی افغانستان کے کمانڈر احمد شاہ مسعود 1982ء ہی میں روسی فوج اور کے جی بی کے ساتھ باہمی مفادات کا معاہدہ کر چکے تھے۔ جس کی تفصیل افغانستان میں متعین روسی جنرل ’’باریس گراموف‘‘ اپنی کتاب میں بیان کر چکے ہیں۔ نیز 16 فروری 2004ء سابق روسی صدر میخائل گوباچوف نے بھی بی بی سی کو انٹریو میں کہا کہ ’’احمد شاہ مسعود نے سویت یونین کے لیے کام کیا، سالنگ درہ روسی فوجیوں کے لیے محفوظ بنایا۔ اور وہاں کسی کو روسی فوج اور ان کے مفادات پر حملے کی اجازت نہ دی‘‘۔ ببرک کارمل روسیوں کے نزدیک مزید حکومت کرنے کے اہل نہ رہے، تو اسے ہٹا کر ڈاکٹر نجیب اللہ کابل انتظامیہ کا سربراہ بنا لیے گئے۔ اُنہیںحالات ماسکو کے حق میں بہتر بنانے کا ٹاسک دیا گیا۔ ڈاکٹر نجیب نے کمیونسٹ فکر و عقیدے سے ظاہراً رجوع کر لیا۔ کابل کی ’’پل خشتی‘‘ جامع مسجد میں لوگوںکے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کرتے۔ چونکہ لوگ خلق اور پرچم پارٹی سے بدظن یا نفرت کرتے تھے۔ چناں چہ ڈاکٹر نجیب نے بعد ازاں پرچم پارٹی کا نام بدل کر وطن پارٹی رکھ دیا۔ بہر حال ڈاکٹر نجیب بھی مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ببرک کار مل نے ڈاکٹر نجیب کے دور حکومت میں واپس آ کر افغانستان کی تقسیم کے منصوبے پر کام شروع کردیا۔ ’’کے جی بی‘‘ نے احمد شاہ مسعود کی پشت پناہی کی۔ ہزارہ، تاجک اور ازبک کمانڈروں و جماعتوں پر مشتمل اتحاد تشکیل دیا۔ جو شمالی اتحاد کے نام سے معروف ہو۔ یاد رہے کہ نئی دہلی اس قبیح کھیل میں پوری طرح شامل رہا۔ اس طرح ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت میں شمالی کے صوبوں، کابل اور چند متصل علاقے اپنے نفوذ میں رکھنے پر عمل در آمد شروع ہوا۔ فوجی قوت شمال کے اندر جمع کرنا شروع کردی۔ ماسکو معروضی حالات وحقائق سے آگاہ تھا، کہ ان کی افواج کے نکلنے کی صورت میں کا بل کی حکومت افغانستان پر کنٹرول کی اہلیت و سکت نہیں رکھتی۔ اور پھر فوج کے اندر اکثریت رکھنے والے پشتون افغان فوجی تقسیم یا کو ئی دوسر ا منصوبہ کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ ہی کے دور میں فیصلہ ہوا کہ اگر مجاہدین دوسرے صوبوں پر تسلط قائم کرتے ہیں تو اس صورت میں شمالی اتحاد کا مرکز ’’مزار‘‘ ہو گا۔ چناں چہ 1987ء (ڈاکٹر نجیب اللہ حکومت) میں ماسکو کے تعاون سے، جسے روسی صدر میخائل گورباچوف کی حمایت حاصل تھی، شمال کے نو صوبوں پر مشتمل ’’فرعی‘‘ حکومت قائم کی گئی۔ کہ افغانستان کا شمال اپنے داخلی معاملات میں خود مختار ہو گا، باقی افغانستان سے الگ اپنا نظام قائم کریں گے۔ شمال کی یہ حکومت وسطی ایشیائی ممالک سے تجارتی سفارتی تعلقات استوار کرنے میں آزاد ہو گی۔ پرچم پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن نجیب اللہ مسیر اس کے لیے نگران بنائے گئے تھے۔ جسے اس احتمالی حکومت کے لیے افغان وزیر اعظم کا معاون بھی مقرر کیا گیا تھا۔ مزار شہر کے داخلے دروازے پر ’’بہ خراسان مستقل خوش آمدید‘‘ لکھا گیا۔ یہی الفاظ بعد میں سالنگ ٹنل کے اوپر نوشتہ کیے گئے۔ صدر ڈاکٹر نجیب اللہ اس پورے منظر نامے میں خاموش تھے۔ ان وجوہات و خیانتوںکے پیش نظر ڈاکٹر نجیب حکومت کے وزیر دفاع جنرل ’’شاہ نواز تنئی‘‘ نے کابل رجیم کے خلاف فوجی بغاوت کی۔ یعنی اس فوجی بغاوت افغانستان کی تقسیم کی سازش کو ناکام بنانا تھا۔ البتہ جنرل تنئی کامیاب نہ ہوئے۔ جا کر حزب اسلامی سے مل گئے۔ جس کے بعد ڈاکٹر نجیب کی حکومت نے بغاوت کے الزام میں سپاہی سے جنرل رینک کے کئی پشتون افسران اور سپاہیوں کو موت کی سزائیں دیں۔ برطرفیاں ہوئیں۔ گویا سیکڑوں پشتون فوجی انتقام کا نشانہ بنائے گئے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ بدستور جہادی تنظیموں اور پاکستان مخالت موقف پر کھڑے رہے۔ انہیں اپنی جماعت پرچم، احمد شاہ مسعود اور رشید دوستم وغیرہ فرار ہونے نہیں دے رہے تھے۔ ڈاکٹر نجیب اپنے ارد گرد سازشی سیاست پوری طرح بھانپ گئے تھے۔ چونکہ اقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان میں امن معاہدے کے حوالے سے پیش رفت ہو رہی تھی۔ چناں چہ جنیوا معاہدے پر 1988میں دستخط ہو گئے۔ اس ناقص معاہد ے کو حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار اور دوسری جہادی تنظیموں نے مسترد کر دیا تھا۔ یہ بھی واضح کر دیا تھاکہ جہادی تنظیموں نے پاکستان کو نمائندگی کا اختیار سرے سے دیا ہی نہیں۔
(جاری ہے)