امدادی پیکیج، حکومت اپنا اعتماد بھی بحال کرے

164

وفاقی حکومت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 880 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے اور پیٹرول کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی کر دی گئی ہے جبکہ شرح سود میں بھی معمولی کمی کی گئی ہے۔ اسے دیر آید اور نیم درست آید کہا جا سکتا ہے۔ ملک بھر میں لاک ڈائون کی صورتحال کے پیش نظر متاثرین کے لیے فوری ریلیف پیکیج کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ اس پیکیج کے تحت مزدوروں کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔ مشکلات کا شکار ہر خاندان کو ماہانہ تین ہزار روپے دیے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا کہ تین سو یونٹ تک بجلی اور گیس کے بل قسطوں میں لیے جائیں گے۔ جبکہ دالوں سمیت بعض اشیائے خورونوش پر ٹیکس کی شرح میں بھی کمی کردی گئی ہے۔ برآمد کنندگان کو تعاون دینے کے لیے ان کے قرضوں پر سود بھی ملتوی کر دیا گیا۔ مجموعی طور پر وفاقی حکومت کا پیکیج بھی مناسب اور خوش آئند ہے۔ البتہ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ سود سے جان چھڑانے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کی جان کیوں جاتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ قوم حکمرانوں کے وعدوں اور اعلانات پر اب بھروسہ نہیں کرتی۔ لوگوں کے دلوں میں یہ خوف ہے کہ جوں ہی لاک ڈائون ختم ہوگا ایک جھٹکے میں پیٹرولیم کی قیمتیں پرانی سطح پر آجائیں گی۔ ویسے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں جو کمی کی گئی ہے بین الاقوامی مارکیٹ کے تناظر میں یہ کمی بھی کم ہے۔ سیاسی رہنمائوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قیمتوں کے تناظر میں تو یہ کمی 50 روپے سے بھی زیادہ ہونی چاہیے تھی لیکن لوگ اس پر بھی خوش ہوئے ہیں۔ بس انہیں اطمینان دینا چاہیے کہ یہ کمی کم از کم چھ ماہ چلے گی۔ وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کے لیے مشکل یہ ہے کہ ان کے پاس کم آمدنی والوں، روز مرہ کام کاج کرنے والوں اور مزدوروں کے کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں تو وہ تین ہزار روپے کن خاندانوں کو دیں گے۔ خدشات تو موجود ہیں کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرح اس رقم میں خوردبرد ہو گی۔ لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ رقم متاثرین تک پہنچ جائے گی۔ صدر مملکت اور دیگر حکومتی ارکان نے الخدمت اور دیگر فلاحی تنظیموں سے رابطہ کیا ہے تو ان تنظیموں پر اعتماد کریں، ان کے پاس ضرورت مندوں کے اعداد وشمار ہوتے ہیں یہ مستحقین تک امدادی رقوم بھی پہنچا دیں گے۔ اسی طرح یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کے اعداد وشمار ان اداروں کے مالکان کے پاس ہوں گے جہاں یہ لوگ کام کرتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کورونا کے حوالے سے ملک گیر لاک ڈائون نہ کرنے پر جو اصرار کیا جا رہا ہے اس میں بہرحال ایک حکمت ہے، وزیراعظم کے سامنے پورا ملک ہے، معاشی سرگرمیاں ہیں، کراچی سے گلگت تک کی ضروریات ہیں، پیٹرولیم مصنوعات ہی ہر جگہ پہنچانا ایک بڑا کام ہے۔ مکمل لاک ڈائون یعنی کرفیو کا مطلب بندرگاہوں پر بھی کام کی بندش ہے۔ اس کا مطلب پورے ملک کی معیشت کا بھٹا بٹھانا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی بات کو محض سیاست کی نذر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پارٹی اور حکومت سے لاکھ اختلاف ہو سکتا ہے لیکن قومی معاملات کو بالغ نظری سے طے کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر بات میں اختلاف ضروری نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو سندھ کے دبائو میں پنجاب نے بھی لاک ڈائون کردیا لیکن اس لاک ڈائون میں ہو کیا رہا ہے۔ وہی تو ہو رہا ہے جو عمران خان کہہ رہے ہیں۔ لاک ڈائون مکمل ہوگا تو کرفیو ہوگا۔ اشیائے خورونوش کی دکانیں بند ہوں گی۔ پیٹرول پمپس بند ہوں گے، اسپتالوں تک جانے کے لیے بھی مشکلات ہوں گی۔ وزیراعظم نے درست کہا کہ یہ ٹی ٹوئنٹی میچ نہیں ہے، کرفیو لگانے کے لیے تیاری کرنی ہوتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان سمیت اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے مائی باپ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اب عمران خان سے ملتی جلتی بات کی ہے کہ اگر سخت لاک ڈائون یا کرفیو کا فیصلہ کیا تو ملکی معیشت بیٹھ جائے گی۔ امریکی اپوزیشن نے انہیں اس بیان پر آڑے ہاتھوں نہیں لیا۔ ٹرمپ نے تو کہا ہے کہ میں لاک ڈائون بھی مقررہ وقت پر ختم کر دوں گا۔ اس معاملے میں بار بار توجہ دلائی جا رہی ہے کہ وفاق اور صوبے مل کر متفقہ لائحہ عمل طے کریں اور ایک دوسرے کے خلاف سیاست نہ کریں۔ وزیراعظم نے صحافیوں کے لیے بھی ریلیف پیکیج تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ضروری ہے کہ ایسا کیا جائے لیکن وزیراعظم سب سے پہلے اتنا تو کریں کہ میڈیا مالکان نے اپنے ورکرز کے جو پیسے دبا رکھے ہیں اس کی بنیاد حکومت کی جانب سے اشتہارات کی رقم ادا نہ کرنا ہے۔ وزیراعظم اس رقم کو جاری کروا دیں۔ میڈیا مالکان یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اربوں روپے کی یہ رقم جب ہمیں مل جائے گی تو ہم فوری طور پر میڈیا ورکرز کی رکی ہوئی تنخواہوں کی ادائیگی کر دیں گے۔ یہ کام تو وزیراعظم کے لیے آسان ہے۔