میڈیا کے دباؤ پر خیبرپختونخوا ‘ بلوچستان اور پنجاب میں لاک ڈاؤن کیا گیا‘ وزیراعظم

253
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان وڈیو لنک کے ذریعے وفاقی کابینہ کے اجلا س کی صدارت کررہے ہیں

اسلام آباد( نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہمیڈیا کے دباؤ پر خیبرپختونخوا بلوچستان اور پنجاب میں لاک ڈان کیا گیا۔بدھ کو پارلیمانی رہنماؤں سے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے معاملے میں صوبے بااختیار ہیں لیکن اس حوالے سے پاکستان میں کنفیوڑن ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن میں سندھ آگے نکل گیا اور اب بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا خدشہ ہے،اس لاک ڈاؤن کی طرف نہیں جانا چاہیے جس سے ٹرانسپورٹ بند ہو۔ عمران خان نے کہاکہ جب گھبراہٹ اور خوف میں فیصلے کیے جاتے ہیں تو اس کے اثرات کا جائزہ نہیں لیا جاتا جس کے باعث دوسری جانب مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں، اگر کرفیو لگانے پڑا تو اس کی تیاری کرنی ہوگی اور لوگوں کو گھروں تک کھانا پہنچانے کا انتظام کرنا ہوگا۔وزیراعظمنے کہا کہ لاک ڈاؤن سے تعمیراتی شعبہ متاثر ہو رہا ہے اور اس کا اثر یومیہ اجرت کے ملازمین پر پڑرہا ہے۔ان کا کہناتھا کہ وہ اپوزیشن کی تجویزسننے کے لیے تیار ہیں۔ان کے مطابقملک میں 25 فیصد افراد غربت کی لکیر کے نیچے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں صرف 153 افراد کو مقامی سطح پر وائرس منتقل ہوا جبکہ بقیہ کیسز باہر سے آئیں ہیں مقامی سطح پر کیسز کی تعداد کم ہونا خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک پاکستان ائرپورٹس پر 9 لاکھ افراد کی اسکریننگ کی جاچکی ہے۔وزیر اعظم نے کہا یہ بھی کہ 15 جنوری کو کورونا وائرس کے متعلق پہلا اجلاس طلب کیا گیا تھا جس وقت یہ وبا صرف چین تک محدود تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس کی جنگ صرف قوم جیت سکتی ہیں حکومت نہیں اور ہم سب مل کر اس جنگ کو جیتیں گے جس کا سہرا تمام پاکستانیوں اور تمام صوبوں کے سر ہو گا۔