ہنٹا وائرس ہے کیا؟

450

میڈیکل کی زبان میں دیکھا جائے تو اس وائرس کا نام “ہنٹا وائرس پلمونری سینڈروم” (ایچ پی ایس) کہا جاتا ہے۔

امریکی طبی ادارے کےمطابق “ہنٹا وائرس” چوہوں کی نسل سےتعلق رکھنے والےجانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے بعض اوقات یہ پالتو جانوروں سے بھی منتقل ہوسکتاہے۔

عموماً یہ چوہے اور چوہے کی نسل سے تعلق رکھنے والے جانوروں کے پیشاب، تھوک یا فضلے میں پایا جاتا ہے، یہ انسانوں میں اسی صورت منتقل ہوسکتا ہے کہ جب کوئی چوہوں کے مذکورہ مواد کو ہاتھ لگاتے ہیں اوراسی ہاتھ سے اپنی آنکھ یا ناک کو چھوتے ہیں جس کے باعث یہ وائرس انسان کے جسم میں منتقل ہوکر اسے نقصان پہنچاتا ہے۔

مزید پڑھئیے: کورونا کے بعد چین میں نئے وائرس کا انکشاف؛ ایک شخص ہلاک

دوسری جانب سانس لینے کے باعث بھی یہ وائرس انسان کے جسم میں اس طرح منتقل ہوسکتا ہے کہ اگر ماحول میں چوہوں کا فضلہ یا اس سے متعلق کوئی قطرہ ہوا میں موجود ہے تو انسان اس ماحول میں سانس لے گا اور یہ با آسانی انسان کی سانس کی نالی میں منتقل ہوجائے گا۔

Image result for hantavirus

امریکی طبی ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) سی ڈی سی کے مطابق اس وائرس سے متاثر کیسز شازو نادر ہی سامنے آتے ہیں ، اس وائرس کی وبائی صورت اختیار کرنے کے کوئی امکانات نہیں۔

ہنٹا وائرس کی ابتدا کب ہوئی؟

ہنٹا وائرس کا نام  جنوبی کوریا میں ایک دریا ہنٹا سے لیا گیا ہےجہاں اس وائرس نے 1950 میں پہلی مرتبہ امریکا اور ویتنام کی جنگ کے دوران امریکی افواج کو اپنا شکار بنایا تھا اور 1 ہزار سے زائد فوجیوں کی جان لے لی تھی۔سال 2012میں ہنٹا وائرس امریکی ریاستوں میں پھیلا تاہم اس وائرس کی ویکسن 2014 میں بنالی گئی۔

ہنٹا وائرس کی علامات کیا ہیں؟

اس وائرس کی ابتدئی علامات میں تھکاوٹ، بخار اور پٹھوں کا دردسمیتسر درد، چکر آنا، سردی لگنا، متلی ،الٹی شامل ہیں، ہٹنا وائرس سے متاثرہ لوگوں میں سے نصف میں یہ علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

Image result for hantavirus

اس وائرس سے” ہنٹا ہیمرج فیور رینل سینڈروم “یا’ ہنٹا وائرس پلومونری سینڈروم ‘کا مسئلہ لاحق ہوتا ہے۔ اس وائرس کی طویل مدتی علامات میں کھانسی اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں۔ وائرس سے متاثرہ مریض کو پھیپھڑوں میں مائع بھر جانا جیسی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔