کورونا وائرس: ایرانی سپریم لیڈر سمیت کوئی محفوظ نہیں

448

کورونا وائرس کی وباء سے ایران کے حکومتی عہدیداروں  ولایت فقیہ کے رہنما اور ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے اہل خاندان سمیت کوئی محفوظ نہیں رہا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق 17 حکومتی عہدیداران کورونا وائرس کی مہلک بیماری کے نتیجے میں ہلاک ہوچکےجبکہ 12 عہدیداران زیر علاج ہیں۔ایران میں 27017 کورونا وائرس کے کنفرم کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ 2077 افراد اس وبا کی لپیٹ میں آ کر لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

ایران کے حکومتی ایوانوں میں ہلاک ہونے والوں میں سپاہ پاسداران انقلاب کے بانی رکن حبیب برزگاری بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سابق ایرانی رکن اسمبلی حامد کہرام بھی کورونا کا شکار ہو چکے ہیں، حامد کہرام ایرانی صدر حسن روحانی کی صدارتی مہم کے دوران ان کے صوبائی مہم کے نگران تھے۔

مجلس خبرگان رہبری ایران ہاشم بطحائی کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد چل بسے۔ مجلس خبرگان رہبری کو ایرانی نظام میں بنیادی اتھارٹی کی حیثیت حاصل ہے۔ ایران کے آئین نے اس مجلس کو ملک کے رہبر اعلی کے تقرر اور معزولی کا اختیار دیا ہے۔ یہ مجلس 88 ارکان پر مشتمل ہوتی ہے۔ ارکان کا انتخاب براہ راست عوامی ووٹنگ کے ذریعے 8 سال کی مدت کے لیے عمل میں آتا ہے۔

دوسری جانب 13 مارچ کو جاری شدہ ایک بیان کے مطابق پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر ناصر شبانی بھی کورونا وائرس کا شکار بن گئے ہیں۔ پاسداران انقلاب کے ایک اور کمانڈر حسین اسد اللہ کی موت کے بارے میں بھی شبے کا اظہار کیا جاتا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے ہلاک ہوئے۔

اس کے علاوہ ایران کے سابق سفیر برائے شام حسین شیخ الاسلام، سابق رکن اسمبلی محمد رضا راہچمانی، رکن پارلیمان فاطمہ راہبر اور محمد علی رمضانی، مصالحتی کونسل کے رکن محمد میر محمدی اور ویٹیکن کے لئے سابق سفیر ہادی خسروشاہی شامل ہیں۔

وائرس کے نتیجے میں ایران کے حکومتی ایوان میں شامل 12 افراد ابھی بھی علیل ہیں۔ ان میں ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری، وزیر سیاحت علی اصغر مونسن اور مصالحتی کونسل کے رکن علی ایراوانی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایران کی نائب صدر برائے امور خواتین معصومہ ابتکار، نائب وزیر صحت ایراج حرارچی، وزیر صنعت رضا رحمانی اور سابق وزیر انصاف مصطفیٰ پورمحمدی شامل ہیں۔ ارکان اسمبلی مجتبیٰ ذوالنور، زہریٰ الیحان اور معصومہ آغا پور علی شاہی بھی کرونا کے سبب زیر علاج ہیں۔