چاہتا ہوں سب مل کراس جنگ کو جیتیں، وزیر اعظم

153

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے چاہتا ہوں سب مل کراس جنگ کوجیتیں۔

وزیراعظم عمران خان نے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے ہفتے تک 9 لاکھ  افراد کی ایئرپورٹس پراسکریننگ کی گئی، گزشتہ دن کے اعداد وشمارتک پاکستان میں 900 افراد میں کوروناکی تصدیق ہوئی، میڈیا کی طرف سے پریشر پڑا جس پرکے پی،بلوچستان،پنجاب نے لاک ڈاؤن شروع کردیا، خوف میں لیے گئے فیصلوں کادرست جائزہ نہیں لیا جاتا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جہاں بھی لوگ جمع ہوسکتے تھے وہ جگہ ہم نے بند کردی، یونیورسٹیز،کالجز ،کرکٹ میچز اور عوامی اجتماعات کو فوری بند کردیا گیا، چاہتا ہوں سب مل کراس جنگ کوجیتیں، ہمیں مشاورت کرنی چاہیے،چیزوں کا جائزہ لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ چین میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا کو چین میں رکھنے کا مشکل فیصلہ کیا، چین سے ابھی تک ایک بھی کورونا وائرس کاکیس پاکستان میں نہیں آیا، پاکستان میں صرف 153 کورونا وائرس کے مقامی مریض ہیں، کل تک پاکستان میں کورونا وائرس کے 900 مریض تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں لاک ڈاؤن کےمعاملے پر کنفیوژن ہے، لاک ڈاؤن سے ساری انڈسٹری بند ہوگئی ہے، ہمیں ٹرانسپورٹ بند کرنے والا لاک ڈاؤن ابھی نہیں کرنا چاہیے،لاک ڈاؤن کی آخری اسٹیج کرفیو ہے، ہمیں لوگوں کوگھروں میں کھانا پہنچانا پڑے گا، اگرخدانخواستہ ملک میں کرفیو لگانا پڑے تواس کی تیاری ہونی چاہیے۔

وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن سے ہماری تعمیراتی صنعت متاثرہوگی، لاک ڈاؤن کے معاملے پرسندھ آگے چلاگیا ہے، ٹرانسپورٹ بند ہونے سے کھانے پینے کی اشیاء کی سپلائی بھی متاثرہوگی، اس لاک ڈاؤن کی طرف نہیں جانا چاہیے جس سے ٹرانسپورٹ بند ہو، ٹرانسپورٹ کی بندش سےملک میں مختلف مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، لاک ڈاؤن سے ہماری تعمیراتی صنعت متاثرہوگی۔