پاکستان اور بنگلا دیش کا کورونا ایمرجنسی فنڈ قائم کرنے پر اتفاق

51

کابل/ واشنگٹن( آن لائن )ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان کے رہنمائوں افغان صدر اشرف غنی اور سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ اللہ کے درمیان متوازی حکومت کی تشکیل سازی میں عدم اتفاق
پر ایک ارب ڈالر کی امداد میں کمی کا فیصلہ کیا ہے، امریکا نے مزید دھمکی دی ہے کہ اگر وہ متفق نہ ہوئے تو ہر قسم کے تعاون میں کمی کردی جائے گی،امداد میں کٹوتی کا فیصلہ امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے کابل کے غیر متوقع دورہ کرنے کے بعد کیا۔انہوں نے افغان صدر اشرف غنی اور سابق چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی تھیں۔مائیک پومپیو نے دونوں افغان رہنمائوں کو ایک ساتھ مل کر کام نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور دھمکی دی کہ اس طرح افغان امن عمل متاثر ہوگا۔مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکا کو اس پر سخت افسوس ہے کہ افغان صدر اشرف غنی اور سابق چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبد اللہ نے امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کو مطلع کیا ہے کہ وہ مشترکہ طور پر حکومت سازی پر متفق نہیں ہیں۔مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکا دونوں افغان قائدین کے رویہ سے مایوس ہوا اور اس طرح امریکا اور افغانستان کے تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔انہوں نے کہا کہ افغان رہنماں کا رویہ دراصل امن عمل میں جان دینے والے اہلکاروں کی توہین ہے۔وطن واپسی کے موقع پر مائیک پومپیو نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ ایک ساتھ مل جائیں گے اور ہمیں اس امداد کو کم نہیں کرنا پڑے گا لیکن ہم ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ طالبان نے معاہدے کے مطابق حملوں میں غیرمعمولی کمی کی اور ان کی ٹیم حتمی مذاکرات کے لیے مثبت اقدام اٹھا رہی ہے۔سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ امریکا امن معاہدے کے مطابق افغانستان سے اپنی فوجیوں نکالے گا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن افغانستان کے عوام کے ساتھ شراکت کے لیے پرعزم ہے۔سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ اس کے مظاہرے کے طور پر امریکا افغانستان کو کورونا وائرس کے پھیلا سے لڑنے میں مدد کے لیے 15 ملین ڈالر کی امداد فراہم کرے گا۔