حیدرآباد، لاک ڈائون ، بلدیہ شعبہ ہیلتھ مکمل طور پر غیر فعال

41

 

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سندھ حکومت کے کوروناوائرس سے پھیلائو کے خدشات کے تحت لاک ڈائون سمیت دیگر اقدامات کے باوجود بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کا شعبہ ہیلتھ مکمل طور پر غیرفعال ہے ،ہیلتھ کے شعبے ملیریا،وہیکل ،139،پمپنگ اسٹیشن ،سوئیپنگ میں ڈھائی ہزار سے زائد ملازمین ہیں ،فائربریگیڈ سمیت تمام شعبہ جات میں معمولی گریڈ کے ملازمین کیڈرتبدیل ،آئوٹ آف ٹرن پروموشن اورجعلی دستاویزات کے ذریعے ڈیپوٹیشن پر16اور17گریڈ میں تعینات ہیں ،جگہ جگہ کچرے کے انباروں کو نہیں ہٹایاجاسکا اورنہ ہی اسپرے مہم شروع کی جاسکی۔تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کے کورونا وائرس کے پھیلائو کے خدشات کے تحت لاک ڈائون سمیت ہرسطح پر اقدامات کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ،مگر صوبے بھر میں ہنگامی حالات کے باوجود بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد کا ایمرجنسی ڈیوٹی میں کہیں کوئی کردار نہیں ہے اورنہ ہی تاحال اس سلسلے میں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے ایمرجنسی ڈیوٹی کا کوئی نوٹیفکیشن جاری کیاگیا ہے ،ماہانہ سندھ حکومت سے تنخواہوں ،صفائی سمیت دیگر مراعات کی مدمیں 12کروڑ روپے سے زائد رقم وصول کرنے والے ادارے بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد نے خود کو کوروناوائرس کے پھیلائو کے خدشات کے تحت کیے جانے والے انتظامات سے الگ کررکھاہے ،میونسپل کارپوریشن حیدرآباد/بلدیہ کے شعبہ ہیلتھ میں تقریباڈھائی ہزار سے زائد ملازمین سوئپنگ ،ملیریاسیکشن،نالاگینگ،پمپنگ ،139،دہیکل سمیت دیگر شعبوں میں تعینات ہیں ،جبکہ سیکڑوں سینیٹری ورکرز مسلمان اورگھوسٹ ہونے کے باعث ڈیوٹی نہیں کرتے ہیں جنہیں یونین کے دبائواورملی بھگت کے باعث ماہانہ تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں ،صوبے بھر میں ہیلتھ ایمرجنسی کے باوجود بلدیہ کی جانب سے تاحال صفائی اوراسپرے کا آغاز نہیں کیاجاسکاہے ،جبکہ ہیلتھ کے تمام شعبہ جات اورفائربریگیڈ سمیت دیگر شعبہ جات میں معمولی گریڈ کے ملازمین کیڈرتبدیل کراکراورآئوٹ آف ٹرن پرموشن کے ذریعے گریڈ16اور17میں تعینات ہیں ،جبکہ عدالت عظمی کے احکامات کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے جعلی دستاویزات کے ذریعے ڈیپوٹیشن پر بلدیہ میں تعینات 50سے زائد افراد اہم عہدوں پر تعینات ہیں جوکہ تقریباً75لاکھ روپے ماہانہ تنخواہیں اوردیگر مراعات وصول کرتے ہیں ،ضلع بھر کے پمپنگ اسٹیشن ایچ ڈی اے حوالے کیے جانے کے باوجود عملے کا تاحال اسی مد میں تنخواہیں دی جارہی ہیں ،ماہانہ 12کروڑ روپے سے زائد رقم کرپشن ،لاقانوعیت اورلوٹ مارکی بھینٹ چڑھادی جاتی ہے اورشہریوں کے مسائل کے حل کے معاملے پر میونسپل کارپوریشن کے افسران وسائل اوراختیارات کو لاگ الاپتے ہیں ،حیرت انگیز طور پر کئی ہفتوں سے میونسپل کارپوریشن میں میونسپل کمشنر تعینات نہیں کیاجاسکا ہے ،19مارچ کوچیف سیکرٹری سندھ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق سندھ یونیفائیڈ گریڈ کونسل انجینئرنگ برانچ کے ایگزیکٹیوڈائریکٹر آپریشن،سندھ سولڈ ویسٹ منجمنٹ بورڈحیدرآباد گریڈ19کے نثاراحمدسومروکو میونسپل کمشنر کااضافی چارج دیا گیا ہے ،جوکہ ایمرجنسی حالات کے باوجود اپنا چارج کے بعد سے دفتر سے غائب ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ میونسپل کارپوریشن میں میونسپل کمشنر کی تعیناتی پی پی پی کے رکن صوبائی اسمبلی سے ماہانہ طے کرنے والے آفیسر کی جاتی ہے ،شہریوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ،چیف سیکرٹری سندھ ،ڈویژنل کمشنر محمد عباس بلوچ سے اپیل کی ہے کہ فوری بلدیہ اعلی حیدرآباد میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کرکے اسسٹنٹ کمشنر ز کی نگرانی میں صحت وصفائی کی صورتحال بہتر بنائی جائے اوراسپرے مہم کا آغاز کیاجائے۔