وڈیو لنک آل پارٹیز:نیشنل ایکشن پلان اور ٹاسک فورس قائم کرنیکا مطالبہ

151

کراچی(نمائندہ جسارت)پیپلزپارٹی کے تحت کورونا وائرس پرویڈیولنک آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی قیادت نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دینے اورقومی ٹاسک فورس کے قیام کا مطالبہ کیا ہے اور کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومتی کی لیت ولعل کی پالیسی
پرتحفظات ظاہرکرتے ہوئے کہاہے کہ بلدیاتی اداروں تک ہر سطح پراس وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے ملک گیرلاک ڈاؤن واحد حل ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلے متفقہ پالیسی بنانے کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے حکومت کو کورونا وائرس پرنیشنل ایکشن پلان کے طرز پرتمام جماعتوں کے ساتھ ملکر ایک قومی پالیسی بنانے کی تجویزپیش کی ہے اورخدشہ ظاہرکیا ہے کہ ملک میں اگلے 2 ہفتے تک صورتحال خراب ہوسکتی ہے جسے کنٹرول کرنے کیلے سخت اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ اپوزیشن جماعتوں نے تمام تر اختلافات کو علیحدہ رکھ کر حکومت کو اپنے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی مگر حکومت نے اس پرعملی اقدامات نہیں اٹھائے۔ شرکا نے کورونا وائرس کے درپیش چیلنج کا ایک قوم بن کر مقابلہ کرنے کا عزم کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ عمران خان کو فقط اسلام آباد کے بجائے پورے ملک کا وزیراعظم بن کر اپنا کردار نبھانا ہوگا، جبکہ مہلک وبا کی روک تھام کے لیے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو بحال کرنا حالات کا تقاضا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں وڈیو لنک کے ذریعے ہونے والی پہلی آل پارٹیز کانفرنس کی صدارت پی پی پی چیئرمین بلاول زرداری نے کی، جبکہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف میاں شہباز شریف، اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، بی این پی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل، جمعیت علما اسلام (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری، ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے خالد مقبول صدیقی اور فیصل سبزواری، نیشنل پارٹی کے راہنما حاصل بزنجو، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ، ایاز صادق، عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے عثمان کاکڑ نے حصہ لیا۔ سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف، سینیٹر شیری رحمان، فرحت اللہ بابر اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی کانفرنس میں اپنے چیئرمین کے ساتھ موجود تھے۔ بلاول زرداری نے کہا کہ وہ اس کانفرنس کے ذریعے قوم کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ملک کی سیاسی قیادت ایک پیج پر ہے اور متحد ہوکر اس مہلک بیماری کا مقابلہ کریں گے۔ یہ قدم وفاقی حکومت کو اٹھانا چاہیے تھا، لیکن وہ ذمے داری پاکستان پیپلز پارٹی اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں حکمراں اتحاد میں شامل جماعتیں بھی حصہ لے رہی ہیں، ہم کوشش کر رہے ہیں اور جب تک وفاق اس معاملے میں دلچسپی نہیں لیتا، ہم مطالبات کرتے اور آواز اٹھاتے رہیں گے۔ پی پی ہی چیئرمین نے کہا کہ عمران خان کو اسلام آباد نہیں، پورے ملک کا وزیراعظم بن کر اپنا کردار نبھانا ہوگا۔ صوبوں کو وسائل فراہم کرنا ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں عوام کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، انہیں روکنے کے لیے وفاقی حکومت کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا پڑے گا۔ اس وقت کورونا وائرس سے نمٹنے کیلے متفقہ پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے وبا کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سب نے سراہا ہے، لیکن جب تک وفاق مکمل تعاون نہیں کرے گا، کامیابی ملنا مشکل ہے۔ ہمیں اس وقت ٹیسٹنگ کٹس اور دیگر آلات کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے ڈاکٹرز اور طبی عملے کی حفاظت کے لیے بھی سامان کی ضرورت ہے۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ وہ اے پی سے میں حصہ لینے والی جماعتوں کے شکرگزار ہیں، جن کی شرکت سے واضح ہے کہ ہم سب مل جل کر اس مہلک بیماری کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے کہا کہ سندھ حکومت نے اپنے صوبے میں بروقت اقدامات اٹھائے، اب دوسرے صوبے بھی سندھ حکومت کے دیکھا دیکھی اقدامات لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ حکومت کو کورونا وائرس پر نیشنل ایکشن پلان کے طرز پرتمام جماعتوں کے ساتھ ملکر ایک قومی پالیسی بنانا چاہیے تھی۔ سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان میں جو سینٹر قائم کیے گئے وہ قرنطینہ سینٹر نہیں کوئی مہاجرین کی بستی لگ رہی تھی۔ سینیٹر میر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ میں تفتان واقعے کو قومی جرم قرار دیتا ہوں۔ ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول کہنا تھا کہ کورونا وائرس کا مقابلہ سیلف آئسولیشن اور لاک ڈاؤن ہی ہے۔ تمام سیاسی وعلاقائی مفادات سے ہٹ کر ہمیں لڑنا ہوگا۔ فیصل سبزواری نے کہا کہ مذہبی جماعتوں کے ساتھ ملکر مساجد میں اجتماعات کو روکنے کیلیے مدد لی جائے۔ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ نے حکومت سندھ کے اقدامات کی تعریف کی اور کہا کہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے بروقت اقدامات اٹھائے۔ وفاقی حکومت صوبوں کیلیے ریلیف پیکیج کا اعلان کریں۔ دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ڈاکٹر باری نے اے پی سی کے شرکا کو بریفنگ دی۔