شرح سود‘ یوٹیلیٹی بلوں اور ٹیکسوں میں50فیصدکمی کی جائے( قاسم تیلی کی مراد علی شاہ سے ملاقات)

183

کراچی(اسٹاف رپورٹر)بزنس مین گروپ کے چیئرمین و سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی ) سراج قاسم تیلی نے وزیراعلیٰ سندھ ، گورنر سندھ، کے الیکٹر کے سی ای و سے ملاقاتیں کی ہیں ،وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کے دوران کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ان کی شاندار کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ پوری تاجر وصنعتکار برادری سندھ حکومت کے لاک ڈاؤن کی حکمت عملی کی حمایت کرتی ہے ،شرح سود ، بجلی و گیس کے نرخوں، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹیز ،دیگراقسام کے ٹیکسوں میں میں50فیصد کمی کی جائے تاکہ صنعتوں کا پہیہ چلتا رہے، وزیراعلیٰ سندھ اور چیئرمین بی ایم جی نے متعلقہ جاری کردہ نوٹیفکیشن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ،صنعتوں اور وزیراعلیٰ ، سیکرٹری صنعت، چیف سیکرٹری کے مابین ایک میکنزم کا فیصلہ بھی کیا گیا جس میں اصولی طور پر اتفاق کیا گیا کہ تمام صنعتیں لاک ڈاؤن پر سخت سے عمل درآمد کریں گی۔سراج تیلی نے پیر کوہی گورنر سندھ کی جانب سے معاشی صورتحال پر غورکے لیے بلائے گئے اجلاس میں شرکت کی جس میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد اور مشیر اصلاحات و کفایت شعاری ڈاکٹر عشرت حسین نے وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے جس میں قاسم تیلی نے کورونا وائرس کے بعد تجارت و صنعت کو درپیش مشکلات سے متعلق آگاہ کیا ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ وزیراعظم کو پیغام پہنچائیں کہ کراچی کی تاجروصنعتکار برادری انتہائی مشکل صورتحال سے گزر رہی ہے اور انہیں فوری ریلیف کی بہت زیادہ ضرورت ہے جو کہ شرح سود ، بجلی و گیس کے نرخوں، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹیز ،دیگراقسام کے ٹیکسوں میں میں50فیصد کمی کی شکل میں دیا جائے اور اس کے علاوہ انڈسٹریل سپورٹ پیکیج ایڈجسٹمنٹ (آئی ایس پی اے)کو بھی واپس لیا جائے جس کا مطالبہ انتہائی برے حالات میں کیا گیا ہے جب صنعتی پیداوارکم ہوکر 25سے30فیصد رہ گئی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں بچنے والی رقم یقینی طور پر ملامین کو تنخواہوں کی ادائیگی اور غریب مزدوروں اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے کو کھانے پینے کی اشیا فراہم کرنے پر استعمال ہوگی کیونکہ وہ اپنے گھروں میں بند ہوکر رہ گئے ہیں۔سراج تیلی نے کراچی کے صنعتکاروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے تمام ورکرز اور یومیہ اجرت کمانے والوں کو معمول کے وقت سے پہلے تنخواہیں ادا کریں اور انہیں کھانے پینے کی اشیا اور راشن بھی پہنچائیں کیونکہ غریب عوام کی زندگیوں سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں اور ہمیں ان کا اچھی طرح خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم غیر معمولی اقدامات کریں گے اورملک کے بہتر ترین مفاد میں تمام صنعتوں کو مطلوبہ ریلیف فراہم کریں گے۔ بزنس مین گروپ کے چیئرمین وسابق صدر سراج قاسم تیلی کے گھر پر کے الیکٹرک کے سی ای او سید مونس عبداللہ علوی نے پیر کے روز ملاقات کی اور فیصلہ کای گیا کہ آئی ایس پی اے کے بقایات30اپریل2020تک مؤخر کردیے گئے ہیں جبکہ یہ رقم صنعتکار اس صورت میں ادا کریں گے جب وہ وفاقی حکومت سے براہ راست اسے واپس لینے میں ناکام ہوں۔ مارچ 2020کے بجلی کے بل بغیر آئی ایس پی اے چارجز کے ادا کیے جاسکتے ہیں جبکہ 31مارچ2020کے بعد دیر سے ادائیگی کے چارجز لاگو ہوں گے۔تمام صنعتکاروں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنے کے الیکٹرک کے بل کی مد میں بقایات کی ادائیگی کریں تاکہ بجلی کے شعبے کی پائیداری یقینی بنائی جاسکے۔ وہ صارفین جنہوں نے پہلے ہی آئی ایس پی اے کے بقاجات اداکر دیے ہیں ان کی ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے اگر وفاقی حکومت نے 30اپریل2020 ء تک اسے واپس لینے کا فیصلہ کیا۔