یمن کی 5 سالہ جنگ میں 16 ہزار شہری جاں بحق،25 ہزار زخمی

165

صنعا (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن میں جاری خانہ جنگی کو 5 سال ہوگئے ہیں۔ ملک کے شمالی حصوں پر باغی حوثی ملیشیا کا قبضہ ہے، جب کہ جنوبی حصے پر صدر عبدربہ منصور ہادی کی حکومت ہے۔ فریقین ایک دوسرے کا خاتمہ کرنے کے لیے جنگ میں مصروف ہیں۔ اس دوران ہادی حکومت کو سعودی عرب اور اس کی زیرقیادت عرب اتحادی افواج کی مدد حاصل ہے، جب کہ ایران کو حوثی باغیوں کا پشت پناہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ جنگ 5 سال سے یوں ہی بے نتیجہ جاری ہے، تاہم اس میں عوام کا جانی اور مالی نقصان بڑھ رہا ہے۔ اس حوالے سے صنعا میں قائم انسانی حقوق کے ادارے نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا کہ ان برسوں میں 16 ہزار سے زائد بے گناہ شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں، جب کہ 25 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنگ سے متاثر ہونے والوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ اب تک 13 ہزار سے زائد خواتین اور بچے یمنی جنگ میں جاں بحق یا زخمی ہوچکے ہیں۔ ساتھ ہی حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن میں 5 سال سے جاری جنگ کے دوران سعودی عرب کی زیرقیادت عرب اتحاد نے 5 ہزار سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ بات حوثی ملیشیا کے ترجمان بریگیڈیر جنرل یحییٰ سریع نے پریس کانفرنس میں کہی۔ دوسری جانب بچوں کے لیے سرگرم بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری اس جنگ نے بچوں کی صحت اور ذہنوں پر بہت منفی اثرات ڈالے ہیں۔ سیو دی چلڈرن نے منگل کے روز اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس تنازع کے باعث نصف سے زائد یمنی بچوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ افسردگی اور ذہبی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے سیو دی چلڈرن نے یمن میں 639 بچوں کا انٹرویو کیا، جن کی عمریں 13 سے 17 برس کے درمیان تھیں۔اس دوران 20 فیصد بچوں کا کہنا تھا کہ وہ اس جنگ کے باعث ہر وقت خوف زدہ اور غمگین رہتے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بچے اس خوف کے باعث بات کرنے سے بھی گھبراتے ہیں۔